بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ایک بڑے سرکاری اسپتال میں انسانی زندگی کے ساتھ سنگین غفلت کا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں مسیحا تو جان نہ بچا سکے لیکن چھت سے گرنے والے پنکھے نے وارڈ میں زیرِ علاج مریض کی زندگی کا چراغ ضرور گل کر دیا۔
گرو تیگ بہادر (GTB) اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز حادثے نے طبی مراکز میں انتظامات اور سیکیورٹی پر سنگین سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں جبکہ واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین نے انصاف کے لیے دہائیاں دینا شروع کر دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایمرجنسی وارڈ میں داخل 42 سالہ مریض اس وقت شدید زخمی ہو گیا جب اس کے بیڈ کے عین اوپر لگا چھت کا پنکھا اچانک اکھڑ کر اس پر آ گرا۔ بدقسمت مریض اس ناگہانی حادثے کے بعد شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تقریباً تین گھنٹے بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے اسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہولناک واقعے کے فوراً بعد پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (PWD) کی تکنیکی ٹیم کو طلب کیا گیا جس نے فوری طور پر متاثرہ جگہ پر پنکھے کی مرمت کا کام مکمل کیا۔ اسپتال کے ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس حادثے کی زد میں آ کر وہاں تعینات ایک میل نرس بھی زخمی ہوا تھا جسے موقع پر ہی فوری طور پر فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی۔
دوسری جانب اسپتال کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجوہات کا تعین سرکاری انکوائری رپورٹ کی تیاری کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ انتظامیہ کے مطابق، جامع تحقیقات کے بعد ہی یہ سچ سامنے آ سکے گا کہ اس ہلاکت خیز حادثے کا اصل ذمہ دار کون ہے اور پنکھا کس تکنیکی خرابی یا لاپرواہی کی وجہ سے نیچے گرا۔
اسپتال میں موجود عینی شاہدین نے انتظامیہ اور ذرائع کے دعووں کو یکسر مسترد کر دیا۔ گواہوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ میل نرس اس تازہ حادثے میں زخمی نہیں ہوا بلکہ اسے چند ماہ قبل کسی دوسرے واقعے کے دوران چوٹیں آئی تھیں جس کا اس حالیہ واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








