امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے بھارتی پنجاب سے جڑے ایک انتہائی خطرناک اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم جرائم پیشہ گروہ کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے اس کے سرگرم کارندے نیتیش کوشل کے خلاف قانونی شکنجہ کس دیا ہے۔
امریکی عدالت میں دائر مقدمے کے مطابق نیتیش کوشل کے خلاف باقاعدہ وفاقی گرفتاری وارنٹ حاصل کرلیا گیا ہے جس پر امریکا کے سخت ترین قانون ‘ریکٹر انفلوئنسرڈ اینڈ کرپٹ آرگنائزیشنز (RICO) ایکٹ کے تحت مجرمانہ سازش کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نیتیش کوشل مبینہ طور پر جگو بھگوان پوریا آرگنائزڈ کرائم گروپ کے لیے پرتشدد کارروائیوں میں شریک رہا جن میں مبینہ اغوا اور حملے شامل ہیں۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق یہ گروہ بھارتی پنجاب سے شروع ہوا اور امریکا کے وسطی کیلیفورنیا سمیت دیگر علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔
یہ کارروائی لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں تقریباً 25 جون 2026 کو گرینڈ جیوری کی جانب سے جاری کیے گئے فرد جرم کے بعد سامنے آئی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پیش رفت آپریشن ہارڈ بال کا حصہ ہے جس کا اعلان جولائی کے ابتدائی دنوں میں کیا گیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق اس بڑے آپریشن میں امریکا کے علاوہ کینیڈا، یورپی ممالک اور بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی تعاون کیا۔ اس کارروائی کا ہدف بھارت سے منسلک تین ایسے بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس تھے جن کے بارے میں الزام ہے کہ وہ امریکا اور دیگر ممالک میں سرگرم تھے۔
حکام نے بتایا کہ آپریشن کے نتیجے میں تین الگ الگ مقدمات کے تحت مجموعی طور پر 37 افراد کے خلاف الزامات عائد کیے گئے جبکہ اب تک تقریباً 24 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
مبینہ جرائم پیشہ گروہ پر سنگین الزامات
امریکی عدالتی ریکارڈ کے مطابق جگو بھگوان پوریا گروپ پر الزام ہے کہ یہ ایک منظم جرائم پیشہ تنظیم کے طور پر کام کرتا رہا، جس میں مبینہ طور پر کرائے کے قتل، مخصوص افراد کو نشانہ بنا کر قتل، اغوا، تشدد اور بھتہ خوری جیسی سرگرمیاں شامل تھیں۔ حکام کے مطابق گروہ ان کارروائیوں کے ذریعے اپنے ارکان، مخالف گروہوں اور دیگر افراد پر دباؤ قائم رکھتا تھا۔
تحقیقات میں اس گروہ پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق مبینہ طور پر کوکین، میتھ ایمفیٹامین اور ہیروئن کی بڑی مقدار جنوبی کیلیفورنیا سے امریکا کے دیگر علاقوں اور کینیڈا تک منتقل کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ گروہ پر اسلحہ اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔
عدالتی دستاویزات میں جولائی 2024 میں کیلیفورنیا کے شہر مانٹیکا میں پیش آنے والے ایک مبینہ واقعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق ایک شخص کو منشیات کی کھیپ چوری کرنے کے شبہے میں مبینہ طور پر اغوا کیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا بعد ازاں اسے فریسنو لے جا کر 50 ہزار ڈالر تاوان کے لیے رکھا گیا۔ حکام کے مطابق گروہ کے سربراہ کی ہدایت کے بعد متاثرہ شخص کو رہا کیا گیا جبکہ نیتیش کوشل پر الزام ہے کہ وہ اس واقعے میں بھی شامل تھا۔
مبینہ گروہ کا سربراہ کون ہے؟
امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق اس گروہ کی سربراہی جگدیپ سنگھ کر رہا ہے جو جگو بھگوان پوریا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع گورداسپور کے علاقے بھگوان پور سے تعلق رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق جگدیپ سنگھ اس وقت بھارت کی ریاست آسام کی سلچر سینٹرل جیل میں منشیات سے متعلق قوانین کے تحت قید ہے۔
امریکی حکام کا الزام ہے کہ جگدیپ سنگھ جیل کے اندر سے مبینہ طور پر اسمگل کیے گئے موبائل فونز کے ذریعے گروہ کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرتا رہا۔بھارتی حکام کے مطابق اس کا نام تقریباً 128 مقدمات میں سامنے آ چکا ہے جن میں قتل، بھتہ خوری، اسلحہ اسمگلنگ اور منشیات سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔
جگدیپ سنگھ کا نام بھارتی گلوکار سدھو موسے والا کے 2022 میں ہونے والے قتل کے معاملے میں بھی سامنے آیا تھا۔ حکام کے مطابق اسے جیل میں موجود گینگسٹر لارنس بشنوئی کے ساتھی اور بعد میں مبینہ حریف کے طور پر بھی بیان کیا گیا۔ دونوں کے بارے میں الزام ہے کہ وہ جیلوں سے اپنے جرائم پیشہ نیٹ ورکس چلاتے رہے جن کے روابط شمالی امریکا اور یورپ تک پھیلے ہوئے ہیں۔
تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ ہے کہ جگو بھگوان پوریا گروپ کے دنیا بھر میں 1000 سے زائد ارکان اور معاونین موجود ہیں، جن میں امریکا میں 100 سے زیادہ افراد شامل ہیں۔ حکام نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ گروہ نے اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے بھارت میں بعض مبینہ بدعنوان اہلکاروں کی مدد حاصل کی جن میں پنجاب پولیس کا ایک افسر بھی شامل ہے جس پر 4 لاکھ ڈالر کی مبینہ بھتہ خوری کی اسکیم سے متعلق الگ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








