لاکھوں روپے کا نقصان ہوسکتا ہے! بیرونِ ملک جانے والوں کو حکومت نے خبردار کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بیرونِ ملک روزگار حاصل کرنے اور اپنا مستقبل سنوارنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے حکومت کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ نوکریوں کے نام پر لوٹ مار کرنے والے نوسربازوں سے ہوشیار رہیں اور محض ایجنٹوں کے زبانی وعدوں اور جھانسے میں آ کر اپنی محنت کی کمائی ان کے حوالے کرنے کی فاش غلطی ہرگز نہ کریں۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے آگاہی پیغام کے مطابق روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند متعدد سادہ لوح افراد ویزا دلوانے کے جھوٹے دلاسوں میں آ کر لاکھوں روپے کا مالی نقصان اٹھا رہے ہیں۔

حکام نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی ایجنٹ کی زبانی یقین دہانی پر اندھا دھند رقم کی ادائیگی سے مکمل گریز کیا جائے کیونکہ غیر مصدقہ اور غیر قانونی ذرائع سے روزگار یا ویزا حاصل کرنے کی کوشش انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

بیورو نے ٹریول ایجنسیوں کے حوالے سے ایک اہم تکنیکی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان ایجنسیوں کا دائرہ کار صرف اور صرف فضائی ٹکٹوں کی بکنگ اور ہوٹلنگ کی سہولیات تک محدود ہوتا ہے۔ ٹریول ایجنسیوں کا بیرونِ ملک ورک ویزا حاصل کرنے، ملازمتیں دلوانے یا روزگار کے لیے کسی بھی قسم کی قانونی جاب پلیسمنٹ سے دور دور تک کوئی قانونی تعلق نہیں ہوتا۔

شہریوں کے لیے جاری کردہ خصوصی ہدایات میں بیورو آف امیگریشن نے تاکید کی ہے کہ ویزے یا بیرونِ ملک نوکری کا جھوٹا دعویٰ کرنے والی کسی بھی ایجنسی کو ایک روپیہ بھی ادا نہ کیا جائے۔ اس کے بجائے، تمام امیدوار بیورو کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود فارن جابز پورٹل کا رخ کریں جہاں تمام منظور شدہ اور قانونی روزگار کے مواقع کی تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔

اس پورٹل کے ذریعے امیدواروں کو حکومت سے باقاعدہ لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیوں کی تصدیق شدہ معلومات ملتی ہیں جن سے وہ براہِ راست رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق اس سرکاری طریقہ کار کو اپنانے سے نہ صرف دھوکہ دہی اور فراڈ کے خطرات ختم ہو جاتے ہیں بلکہ غیر قانونی بھرتیوں کا بھی مکمل سدِباب ممکن ہوتا ہے۔

حکومتی ادارے نے شہریوں کو قانون کا استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریول ایجنسی ملازمت کا جھوٹا جھانسا دے کر رقم بٹورنے کی کوشش کرے یا کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری میں ملوث پائی جائے تو متاثرہ شہری فوراً وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رابطہ کرے تاکہ ان نوسربازوں کے خلاف سخت ترین قانونی شکنجہ کسا جا سکے۔

آخر میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ روزگار کے مواقع کی مکمل تصدیق صرف اور صرف سرکاری ذرائع اور فارن جابز پورٹل سے کی جائے اور کسی بھی غیر مصدقہ ایجنٹ یا مڈل مین (درمیانی شخص) کے دلفریب وعدوں پر بھروسہ کر کے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر نہ لگائی جائے۔

Related Posts