سندھ میں ملازمین کی کم از کم تنخواہ ساڑھے 43ہزار ہوگی۔مراد علی شاہ

تازہ ترین

تازہ ترین

بجٹ
(فوٹو: آن لائن)

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں سرکاری ملازمین کی کم از کم تنخواہ 43 ہزار 500 روپے ہوگی۔ ہم نے کسانوں کو سہولیات دیں تو گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے ہمیں مجموعی طور پر 2 ہزار 95ارب روپے دینے تھے۔ ہمیں مئی تک 1 ہزار 511ارب روپے ملے۔ ہم نے فارمرز اور موٹر سائیکل والوں کو سبسڈی فراہم کی۔ 1 ہزار 18ارب روپے میں سے 9اعشاریہ 3ارب ڈویلپمنٹ پر ریلیز کرچکے ہیں۔ کسان کو سہولت دینے سے ویٹ کراپ میں 1اعشاریہ 10ملین ٹن کا اضافہ ہوا۔

پوسٹ بجٹ تقریر کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ریونیو اسائنمنٹ سے 2 ہزار 83ارب روپے ملیں گے۔ 1 ہزار 60 ارب روپے اسٹیٹ ٹرانسفر سے ملیں گے۔ گزشتہ سال 1 ہزار 18ارب روپے کا پی ایس ڈی پی بنایا تھا۔ گل پلازہ کیلئے ساڑھے 8ارب روپے دینے پڑے۔ سندھ کو 2 ہزار 263 ارب روپے وفاق سے ملنے ہیں۔ صوبائی ٹیکسز کی مد میں نئے مالی سال کیلئے 456ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

تقریر کے دوران وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے انکم بجٹ کا کل حجم 3 ہزار 525ارب روپے ہے۔ کرنٹ ریونیو اخراجات کا حجم 2 ہزار 560ارب روپے رکھا گیا ہے۔ اس بجٹ میں سے 260ارب روپے ہم نے وفاق کو دینے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن ملا کر مجموعی رقم 1 ہزار 264ارب روپے بنتی ہے۔ ہم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد کا اضافہ کیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سال 2025 میں جو 10 فیصد کا ایڈہاک ریلیف دیا تھا، وہ بیسک سیلری میں ضم کردیا۔ صوبوں کو 13 اعشاریہ 35ٹریلین کی وصولی پر اپنا حصہ ضرور ملے گا۔ ایف بی آر نے 15 ہزار 264ارب روپے کا ہدف پورا کیا تو اگلے سال بینچ مارک فکس ہوجائے گا۔

Related Posts