آئی فون بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے لگا؟ نیا 18 پرو خریدنے سے پہلے یہ کڑوا سچ جان لیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ٹیکنالوجی کی دنیا میں آئی فون 18 پرو کے حوالے سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے جس میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایپل انٹرنیشنل اب تک ایسے تکنیکی مسائل پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکی جو کیمیکل پراسیسز، فزکس کے اصولوں اور صارف کے روزمرہ استعمال سے جڑے ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر کچھ لیکرز کا کہنا ہے کہ مستقبل کا یہ ماڈل بھی رنگ بدلنے کے مسئلے سے متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ ساری بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب آئی فون 17 پرو کے کاسمیک اورنج رنگ کے صارفین نے شکایت کی کہ اس کی بیرونی کوٹنگ چند ہفتوں کے اندر اندر تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔

رپورٹس کے مطابق یہ رنگ نارنجی سے ہلکے گلابی شیڈ میں بدلنے لگا جس نے خریداروں میں واضح تشویش پیدا کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف ممالک کے ایپل اسٹورز میں آج بھی وقتاً فوقتاً ایسے کیسز رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔

Weibo پر سرگرم معروف لیکر Fixed Focus Digital نے 12 جون کو صارفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ iPhone 18 Pro خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں اس ممکنہ رنگ فیڈنگ مسئلے کو ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے۔

ان کے مطابق یہ امکان موجود ہے کہ یہی مسئلہ آنے والے ماڈلز میں بھی سامنے آ سکتا ہے اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ اسی لیکر نے اس سے قبل یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ائی فون 18 پرو ممکنہ طور پر ایلومینیم باڈی کے ساتھ پیش کیا جائے گا نہ کہ ٹائٹینیم کے ساتھ جو دیگر لیکرز کی رائے سے مختلف ہے تاہم یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ Weibo پر موجود لیکرز کی تمام معلومات ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتیں کیونکہ بعض اوقات یہ ایک دوسرے کی رپورٹس کو آگے بڑھا دیتے ہیں اس لیے ان کی ساکھ مختلف درجوں میں سمجھی جاتی ہے۔

اگر اس مسئلے کو سائنسی بنیادوں پر دیکھا جائے تو یہ غالباً ایلومینیم کی انوڈائزیشن (anodization) پروسیس سے جڑا ہوا ہے۔ اس عمل میں سب سے پہلے ایلومینیم کی سطح کو مکمل طور پر صاف کیا جاتا ہے تاکہ اس پر موجود چکنائی اور گردوغبار ختم ہو جائے پھر ایک مرحلے میں سطح کی خامیاں دور کی جاتی ہیں اور قدرتی آکسائیڈ لیئر کو ہٹا دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد دھات کو ایک الیکٹرولائٹک محلول میں ڈبویا جاتا ہے جہاں ایک نئی پورس آکسائیڈ تہہ تشکیل پاتی ہے۔ یہی تہہ وہ بنیادی سطح ہوتی ہے جس میں رنگ جذب کیا جاتا ہے تاکہ فون کا بیرونی رنگ تیار ہو سکے تاہم چونکہ یہ تہہ ایک طرح سے اسپنج جیسی خصوصیات رکھتی ہے اس لیے اسے بعد میں اچھی طرح سیل کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ رنگ محفوظ رہے۔

اگر یہ سیلنگ مکمل اور درست طریقے سے نہ ہو تو پانی، نمی یا حتیٰ کہ ہاتھوں کے تیل جیسے عام عوامل بھی اس تہہ میں داخل ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں رنگ آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ صارفین میں چند ہی ہفتوں کے اندر رنگ بدلنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

اگرچہ یہ مسئلہ ہر ڈیوائس میں بڑے پیمانے پر نہیں دیکھا جاتا لیکن اس کے باوجود صارفین کی شکایات وقفے وقفے سے سامنے آتی رہتی ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

Related Posts