امریکا میں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر سخت تحفظات اور تنقیدی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے دعووں کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے اعلانات کیے جا چکے ہیں جن کے نتائج مختلف رہے ہیں۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹرایڈم اسکف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کے مطابق جنگ ختم ہو چکی ہے، اور وہ امید کرتے ہیں کہ یہ بات درست ثابت ہو، تاہم ماضی میں بھی ایسے دعوے سننے کو ملے ہیں جن کے ساتھ ٹوٹے ہوئے وعدوں کی فہرست جڑی ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ انتظامیہ نے نئی جنگوں کا آغاز کیا لیکن اخراجات میں کمی نہ لا سکی، جس کے اثرات امریکی عوام نے برداشت کیے ہیں۔
دوسری جانب کانگریس رہنما سیتھ مولٹن نے مجوزہ معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک طرح کی ہتھیار ڈالنے کی دستاویز قرار دیا۔ انہوں نے ایم ایس این بی سی کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ معاہدہ انتہائی ناقص ہے اور ان کے مطابق یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی قیادت کے سامنے پسپائی کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تنازعے کے دوران تقریباً 100 ارب ڈالر امریکی ٹیکس دہندگان کے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ 14 امریکی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور جس آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات کی جا رہی ہے، وہ اس جنگ سے قبل بھی کھلی ہوئی تھی، اس لیے اسے دوبارہ کھولنے کو کسی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنا سوالات کو جنم دیتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








