کارگو طیارہ حادثے میں 5افراد لاپتہ: پاک بحریہ، میری ٹائم ایجنسی کا10ہزار فٹ گہرےسمندر میں آپریشن

تازہ ترین

تازہ ترین

کارگو طیارہ
(فوٹو: آن لائن)

پاک بحریہ اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کا اورماڑ کے قریب کارگو طیارہ حادثے میں لاپتہ ہونےو الے 5افراد کی تلاش کیلئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نیوی کے بحری جہاز، سی کنگ، ڈیفیندر ہوائی جہاز اور نیول اے ٹی آر بھی تلاش اور بچاؤ کے آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، پاک بحریہ کے غوطہ خوروں نے بھی مختلف مقامات پر سرچ اینڈ ریسکیو سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جبکہ تلاش کا دائرہ ممکنہ مقام کے اطراف میں مزید 15 سے 20 ناٹیکل میل تک بڑھا دیا گیا۔

اب تک کی گئی تمام تر کوششوں کے باوجود طیارے میں سوار کاک پٹ عملے کے 5 اراکین کا تاحال سراغ نہ مل سکا۔ مواصلاتی رابطوں کے ذریعے سمندر میں موجود ماہی گیر لانچوں اور دیگر بحری جہازوں سے بھی بدقسمت طیارے کے شواہد پر رابطہ برقرار رکھا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ کا آپریشن انتہائی مشکل حالات کے باوجود کامیابی سے جاری ہے۔

پاک بحریہ کی جانب سے خراب موسم، شدید لہروں اور رات کی تاریکی جیسی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا گیا۔ حادثے کا مقام تقریباً 3 ہزار میٹر اور لگ بھگ 10 ہزار فٹ گہرائی میں واقع ہے جس کے باعث ریکوری انتہائی پیچیدہ رہی۔ گہرے سمندر میں سرچ آپریشن کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ملبے کی موجودگی سے یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ طیارہ حتمی طور پر اسی مقام پر موجود ہے کیونکہ سمندری لہریں، ہوائیں اور کرنٹس ملبے کو اصل مقام سے دور لے جاسکتے ہیں۔ طیارے کے درس مقام کی جانچ پڑتال کیلئے مزید جامع سرچ آپریشن کی ضرورت ہے جبکہ گہرے سمندر میں زیر آب سرچ آپریشن دنیا کے پیچیدہ ترین آپریشنز میں شمار ہوتا ہے۔

اس کی مثال ایم ایچ 370 کی تلاش سے دی جاسکتی ہے جہاں برسوں کی عالمی کاوشیں تاحال طیارے کے ملبے کو مکمل طور پر برآمد کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ کی بر وقت اور مؤثر کارروائی ایک بار پھر پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت پیش کرتی ہے۔

Related Posts