پاکستان میں اب پیٹرول سستا ہوگا؟ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اچانک بڑی کمی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتیں مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئیں۔ اس کمی کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے نائب وزیر خارجہ کے وہ بیانات بنے جن میں دونوں جانب سے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ابتدائی اتفاق رائے کا عندیہ دیا گیا۔

برینٹ خام تیل کے سودے 3.58 ڈالر یا 4.1 فیصد کمی کے بعد 83.75 ڈالر فی بیرل تک گر گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 4.01 ڈالر یا 4.72 فیصد کم ہو کر 80.87 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

اس سے قبل جمعہ کے روز بھی دونوں اہم آئل بینچ مارکس میں 3 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ دیکھی گئی تھی جس سے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ امریکا اور ایران جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے بغیر کسی اضافی فیس کے کھلی رہے گی اور ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یہ تجویز شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کو ایرانی انتظامات کے تحت آئندہ 30 روز میں دوبارہ مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی سیاسی خطرات کا اضافی عنصر تیزی سے ختم ہو رہا ہے کیونکہ تاجروں کو توقع ہے کہ تیل کی سپلائی دوبارہ معمول پر آجائے گی۔

تین ماہ سے زائد عرصے تک جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز بند رہی جس کے نتیجے میں عالمی منڈی روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی رسد سے محروم رہی۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

مارکیٹ کے شرکاء اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک جنگی نقصانات کے بعد کتنی تیزی سے پیداوار اور برآمدات بحال کر پاتے ہیں اور آیا مزید بحری جہاز خطے کا رخ کرتے ہیں یا نہیں۔

کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے کموڈیٹیز اسٹریٹجسٹ وویک دھار نے ایک نوٹ میں کہا کہ اگرچہ موجودہ غیر یقینی صورتحال برینٹ خام تیل کو سال کے اختتام تک 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچا سکتی ہے لیکن اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے 60 سے 70 فیصد تک بھی بحال ہو جائے تو عالمی منڈی دوبارہ زائد رسد کی صورتحال میں واپس جا سکتی ہے۔

آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق آئندہ دو ماہ کے دوران مذاکرات کے اگلے مراحل، خصوصاً جوہری معاملات کے حوالے سے کئی سوالات بدستور موجود ہیں اس لیے فوری طور پر تیل کی قیمتوں میں مزید بڑی کمی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

Related Posts