امریکا ایران امن معاہدہ طے، پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کا مثبت ردِ عمل

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران
(فوٹو: آن لائن)

امریکا اور ایران کے مابین امن معاہدہ طے پاگیا، امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے معاہدے کی تصدیق کردی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ طویل سفارتی کاوشوں اور مسلسل مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پاگیا ہے۔دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کرلیا۔ 

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن معاہدے کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر بھی جنگی سرگرمیوں کو ختم کردیا جائے گا جبکہ معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب میں ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہوچکا، جمعے کے روز آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کیلئے دوبارہ کھول دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی بھی ہدایت جاری کردی ہے۔ ایک اور بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ماضی کے کئی صدور ایران کے ساتھ امن قائم کرنے میں ناکام رہے، ہم نے تاریخی پیشرفت ممکن بنا دی ہے۔

دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ایک مزید جامع معاہدے پر مذاکرات ہوں گے۔ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور دیگر اہم معاملات کو بھی شامل کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ مذاکرات میں ایران کی جانب سے جوہری افزودگی اور ایٹمی طاقت حاصل کرنے جیسے معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو شامل ہوگی۔ واضح رہے کہ 100 روز سے زیادہ طویل ایران جنگ میں آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بن گئی تھی۔

ایک جانب امریکی ناکہ بندی تو دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکا کے حامی ممالک کے جہازوں کو روکنے جیسے عوامل کے باعث عالمی تجارت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے اور ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد بھی کچھ عرصے تک دنیا کو یہ اثرات بھگتنا ہوں گے۔

Related Posts