دیکھئے ویڈیو: اردو کی محبت میں بھارتی ہندو باپ نے بیٹی کیلئے مدرسے کا انتخاب کر لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارت کے دارالحکومت دہلی کے علاقے دریا گنج سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو شہری راجیش جوشی نے اپنی بیٹی کو اسلامی مدرسے میں داخل کرا کے اردو، عربی اور فارسی کی تعلیم دلوا کر بین المذاہب ہم آہنگی اور زبان دوستی کی ایک منفرد مثال قائم کر دی۔

راجیش جوشی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دریا گنج میں ہندو اور مسلمان برسوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بچپن ہی سے اردو اور فارسی زبان سے خاص لگاؤ پیدا ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اردو مشاعرے بڑے شوق سے سنا کرتے تھے اور اسی محبت نے انہیں اپنی بیٹی کو بھی ان زبانوں سے روشناس کرانے پر آمادہ کیا۔

ان کے مطابق شادی کے بعد جب ان کی بیٹی پیدا ہوئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایک اسلامی مدرسے میں داخل کرایا جائے تاکہ وہ اردو، عربی اور فارسی زبانیں سیکھ سکے۔ کئی برسوں تک مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کی بیٹی نے تینوں زبانوں پر عبور حاصل کر لیا۔

راجیش جوشی نے بتایا کہ ان کی بیٹی مدرسے میں مکمل حجاب کے ساتھ دیگر مسلم طالبات کے ہمراہ تعلیم حاصل کرتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان اور علم کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہوتا، یہی سوچ انہیں اس فیصلے تک لے کر آئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ان کی بیٹی نہ صرف اردو اور فارسی ادب کا مطالعہ کرتی ہے بلکہ ملک بھر میں مختلف ادبی اور ثقافتی محافل اور مجالس میں شرکت کرکے اردو شاعری، صوفیانہ کلام  اور نوحے پیش کرتی ہے۔

راجیش جوشی کی یہ کہانی سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہے، جہاں صارفین اسے مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی رواداری اور زبانوں سے محبت کی خوبصورت مثال قرار دے رہے ہیں۔

Related Posts