چترال کی خوبصورت وادیوں تک سفر ہوا آسان! اسلام آباد سے ہفتے میں 5 پروازیں چلانے کی تیاری

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

چترال کی خوبصورت وادیوں تک رسائی اب مزید آسان ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ کئی برس کے تعطل کے بعد چترال اور اسلام آباد کے درمیان باقاعدہ فضائی سروس دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں جس کے تحت ہفتے میں پانچ پروازیں چلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو علاقے میں سیاحت، کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بیجان ریزورٹس کی کوششوں سے چترال کے لیے باقاعدہ فضائی رابطے کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں بیجان ریزورٹس اور ساؤتھ ایئر کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک شراکت داری ہوئی ہے جس کے تحت اسلام آباد اور چترال کے درمیان ہفتے میں پانچ دن باقاعدہ پروازیں شروع کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔

اس اقدام سے چترال کو ملک کے دیگر علاقوں کے ساتھ دوبارہ مؤثر فضائی رابطے میں لانے کے امکانات روشن ہوئے ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں سیاحت کے فروغ، مقامی کاروباری سرگرمیوں، روزگار کے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی کو بھی تقویت ملنے کی توقع ہے۔

بیجان ریزورٹس کے بانی انور امان نے کہا کہ ادارے کا وژن صرف ایک ریزورٹ کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ چترال کو ایک مکمل سیاحتی منزل کے طور پر ترقی دینے میں کردار ادا کرنا ہے۔ ان کے مطابق قابل اعتماد فضائی رابطہ اس مقصد کے حصول کی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہے۔

انور امان کا کہنا تھا کہ ساؤتھ ایئر کے ساتھ شراکت داری چترال کو پاکستان اور مستقبل میں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے زیادہ قابل رسائی بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے فوائد پورے خطے تک پہنچیں۔ ان کے مطابق بہتر فضائی رابطے سے چترال کے ہوٹلز، ریسٹورنٹس، ٹور آپریٹرز، گائیڈز، مقامی ہنرمندوں، چھوٹے کاروباروں اور مقامی آبادی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

انور امان نے امید ظاہر کی کہ یہ شراکت داری ذمہ دارانہ اور پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے ایک اہم محرک بنے گی۔

دوسری جانب ساؤتھ ایئر کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نشاط فاطمہ نے کہا کہ ساؤتھ ایئر کا مقصد ان کمیونٹیز اور سیاحتی مقامات کو بہتر فضائی سہولت سے جوڑنا ہے جہاں اس کی ضرورت موجود ہے۔ ان کے مطابق بیجان ریزورٹس کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ بھی اسی وژن کا حصہ ہے۔

نشاط فاطمہ نے چترال کو پاکستان کے منفرد اور خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ساؤتھ ایئر چترال کے فضائی رابطے کو بہتر بنانے اور اس کی سیاحتی صلاحیت کو دنیا کے سامنے مزید نمایاں کرنے کے لیے شراکت دار کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔

104 کمروں پر مشتمل لگژری ریزورٹ بھی منصوبے کا حصہ

چترال کو نمایاں سیاحتی منزل بنانے کے بیجان ریزورٹس کے منصوبے میں 104 کمروں پر مشتمل ایک لگژری ریزورٹ بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ریزورٹ کو چترال کے قدرتی ماحول اور مقامی ثقافتی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے جبکہ پائیداری اور عالمی معیار کی مہمان نوازی کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

منصوبے کے مطابق ریزورٹ میں 7 گورنر سوئٹس، 2 پریزیڈینشل سوئٹس، 71 ایگزیکٹو رومز اور 24 ٹوئن رومز شامل ہوں گے۔ ہر کمرے اور سوئٹ کے ساتھ نجی بالکونی بھی ہوگی جہاں سے مہمان چترال کے وسیع اور دلکش پہاڑی مناظر سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔

ریزورٹ میں 500 سے زائد افراد کی گنجائش رکھنے والا بینکوئٹ ہال، بزنس اور میٹنگ کی سہولیات، ہیلتھ کلب اور پینورامک انفینٹی پول بھی شامل ہوگا۔

اس کے علاوہ مہمانوں کے لیے ریور رافٹنگ اور گائیڈڈ نیچر ایکسپیرینسز کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، یوں ایک ہی مقام پر لگژری قیام، کاروباری سہولیات، صحت و تندرستی اور ایڈونچر سرگرمیوں کا امتزاج میسر ہوگا۔

بیجان ریزورٹس اور ساؤتھ ایئر مشترکہ طور پر اس مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ چترال تک سفری رسائی آسان بنائی جائے، اسے پاکستان کی ایک مضبوط اور نمایاں سیاحتی منزل کے طور پر فروغ دیا جائے اور خطے میں پائیدار سیاحت اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں

Related Posts