میر رضا کی لاش کو قبر سے نکالنے کا خدشہ برقرار، پوسٹ مارٹم پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

میر رضا
(فوٹو: آن لائن)

کراچی: سابق آئی بی اے طالب علم میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ خامیوں پر پولیس سرجن اور تفتیشی حکام کے درمیان اختلافات سامنے آنے کے بعد پولیس نے  ان کی لاش کو قبر سے نکال کر دوبارہ معائنہ کیے جانے کے امکان کو برقرار رکھنےکا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق میر رضا کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ ان کے بیٹے کو اغوا، تشدد اور قتل کا نشانہ بنایا گیا، واقعے کی تحقیقات کرنے والے حکام اب بھی اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کر رہے ہیں کہ انہوں نے خودکشی نہ کر لی ہو۔ تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہیں 25 سالہ نوجوان کی ذہنی کیفیت سے متعلق اہم شواہد ملے ہیں۔

کاروباری میدان میں آگے بڑھنے کی خواہش رکھنے والے میر رضا علی کی لاش گزشتہ ماہ پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنے گھر سے لاپتا ہونے کے دو روز بعد گلستانِ جوہر میں شاہی قلعہ کے قریب، جامعہ کراچی کے سامنے جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔ ان کے سینے پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا۔

منگل کے روز پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج بعض مشاہدات دستیاب تصاویر سے مطابقت نہیں رکھتے، جس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں بیان کیے گئے گولی کے داخل ہونے کے مقام، اس کے راستے اور نکلنے کے مقام میں باہمی مطابقت نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق سائنسی طور پر یہ ممکن ہے کہ گولی جسم کے پچھلے حصے سے داخل ہو کر سامنے سے نکلے، تاہم ان کی رائے صرف پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تصاویر کی بنیاد پر تھی کیونکہ انہوں نے خود لاش کا معائنہ نہیں کیا تھا۔

پولیس سرجن کے ان بیانات کے بعد پولیس حکام نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مشاہدات جاری تحقیقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ ڈاکٹر سمعیہ سید نے نہ تو خود پوسٹ مارٹم کیا اور نہ ہی متوفی کا جسمانی معائنہ کیا۔ بیان کے مطابق صرف تصاویر کی بنیاد پر، بغیر مکمل میڈیکو لیگل معائنے اور پوسٹ مارٹم ٹیم کا حصہ ہوئے، کسی بھی قسم کی رائے قبل از وقت ہے اور قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں۔

تاہم پولیس نے واضح کیا کہ اگر میڈیکل بورڈ سفارش کرے تو عدالتی اجازت سے میڈیکو لیگل ماہرین کی کمیٹی مزید وضاحت کے لیے لاش کو قبر سے نکال کر دوبارہ معائنہ کر سکتی ہے۔ بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ انہوں نے پیر کے روز پولیس کو ایک سرکاری خط ارسال کر کے اپنے تمام تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا، اس لیے اس مرحلے پر مزید تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

Related Posts