فرانس میں پُرتشدد مظاہروں، توڑ پھوڑ، آتش زنی اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد حکام نے متعدد شہروں میں رات کے اوقات میں کرفیو اور عوامی اجتماعات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا اور شہریوں، کاروباری مراکز اور سرکاری املاک کو مزید نقصان سے بچانا ہے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پیرس، نیس اور لیون میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک نقل و حرکت محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دارالحکومت کے مرکزی حصوں میں غیر مجاز اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ مارسیئ، بورڈو اور لِیل سمیت دیگر علاقوں میں بھی مقامی صورت حال کے مطابق پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
سیاسی دباؤ اور حکومتی اقدامات
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ بعض علاقوں میں پولیس کو حالات قابو میں رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب اپوزیشن نے حکومت کی تیاریوں اور امن و امان سے متعلق حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
وزیراعظم سیباسٹیان لوکورنو نے مقامی انتظامیہ کو حالات کے مطابق اضافی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دینے کا اعلان کیا۔ حکومت نے متاثرہ کاروباروں اور عمارتوں کی بحالی کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کا عندیہ بھی دیا ہے جبکہ نقصان کے ذمہ دار افراد سے اخراجات وصول کرنے کے لیے قانونی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
مظاہروں میں گرفتاریاں اور جانی نقصان
خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مظاہروں کے دوران 2,500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ جھڑپوں میں تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے منسوب رپورٹ کے مطابق ایک شہری بھی دھماکے کے نتیجے میں اپنا ہاتھ کھو بیٹھا۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
مظاہروں کا آغاز مبینہ طور پر طلبہ کے تعلیمی سہولیات سے متعلق مطالبات کے ساتھ ہوا تھا تاہم بعد میں مزدور تنظیموں اور دیگر گروہوں کی شرکت سے احتجاج کا دائرہ وسیع ہوگیا۔ مہنگائی اور معاشی مشکلات بھی مظاہرین کے غصے کی وجوہات میں شامل بتائی گئی ہیں۔
کاروباری مراکز اور تاریخی عمارتوں کو نقصان
مقامی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، نقاب پوش گروہوں نے مختلف شہروں میں گاڑیوں، عمارتوں اور دکانوں کو آگ لگائی اور تجارتی مراکز میں لوٹ مار کی۔ کاروباری حلقوں کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار سے زائد کاروباری ادارے اور دکانیں متاثر ہوئیں جبکہ مجموعی مالی نقصان سینکڑوں ملین یورو تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
خبر میں وسطی شہر لیموژ کی ایک تاریخی عمارت کو بھی آگ سے شدید نقصان پہنچنے کا ذکر ہے۔ حکام مبینہ طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ہنگاموں میں ملوث افراد کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








