بھارت میں بھائی کی ڈانٹ سے ناراض ہو کر گھر سے نکلنے والی بارہویں جماعت کی طالبہ مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوگئی، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے 85 دن بعد ریڈ لائٹ علاقے سے بازیاب کرا لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مظفرپور جنکشن سے طالبہ انسٹاگرام پر جان پہچان رکھنے والے ایک نوجوان کے ساتھ کولکاتا چلی گئی، جہاں مبینہ طور پر نوجوان نے اسے سوناغاچی کے ریڈ لائٹ علاقے میں فروخت کردیا۔
رپورٹس کے مطابق طالبہ تقریباً 50 دن تک سوناغاچی میں رہی، جس کے بعد مبینہ انسانی اسمگلروں نے اسے بھاگلپور کے ریڈ لائٹ علاقے میں بھاری رقم کے عوض فروخت کردیا۔
بھاگلپور میں طالبہ نے اپنی دردناک داستان ایک گاہک کو سنائی، جس نے رازداری برقرار رکھتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے پر خاتون سب انسپکٹر پوجا کماری پولیس فورس کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئیں۔
پولیس کارروائی کے دوران مبینہ اسمگلروں نے مزاحمت اور راستہ روکنے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق خاتون سب انسپکٹر نے سروس ریوالور نکال کر ایک مبینہ اسمگلر کو قابو کیا اور طالبہ کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔
پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








