فری لانسر بھی شہباز شریف کے ریڈار پر! آمدن پر 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا پڑے گا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی حکومت نے آزادانہ طور پر پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اہم تبدیلی کر دی ہے۔ نئے مالی سال کے آغاز سے ڈاکٹرز، وکلا، آرکیٹیکٹس، اکاؤنٹنٹس اور فری لانس بنیادوں پر کام کرنے والے سافٹ ویئر انجینئرز و ڈویلپرز کی آمدن پر 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بجٹ کی وضاحت کے لیے جاری کردہ سرکلر میں خدمات اور بعض قرضی سیکیورٹیز سے متعلق ودہولڈنگ ٹیکس کی نئی شرحوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق خدمات کی فراہمی سے متعلق ایڈوانس ودہولڈنگ ٹیکس کے قواعد میں ترمیم کی گئی ہے۔ فرسٹ شیڈول کے پارٹ سوم کی ڈویژن III کے پیراگراف (2) کے ذیلی پیراگراف (i) کے تحت ٹیکس کی شرح 6 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح ذیلی پیراگراف (ii) میں کی گئی ترمیم کے نتیجے میں آزادانہ طور پر خدمات فراہم کرنے والے ڈاکٹرز، وکلا، آرکیٹیکٹس، اکاؤنٹنٹس اور سافٹ ویئر انجینئرز یا ڈویلپرز پر 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔

ٹرمینل اور پورٹ آپریٹنگ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی نئی شرح متعارف کروائی گئی ہے جس کے تحت مجموعی قابل ادائیگی رقم کا 12 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جائے گا جبکہ ایسی دیگر خدمات جو متعلقہ پیراگراف میں واضح طور پر درج نہیں، ان پر مجموعی رقم کا 14 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

ایف بی آر نے مزید واضح کیا کہ قرضی سیکیورٹیز سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گین پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ سیکشن 151A کے تحت یہ شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر دی گئی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق یہ تمام نئی شرحیں یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔

Related Posts