میر رضا کیس کا پردہ اٹھنے لگا؟ شہریوں کی کمیشن کو اہم معلومات اور ڈیجیٹل شواہد کی فراہمی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے مقتول نوجوان تاجر میر رضا کیس کی تحقیقات میں معاونت کے لیے شہریوں نے جوڈیشل کمیشن سے براہِ راست رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے جہاں مختلف افراد کی جانب سے کیس سے متعلق معلومات اور ممکنہ شواہد فراہم کیے جا رہے ہیں۔

جوڈیشل کمیشن کے رجسٹرار عبد الماجد کے مطابق کمیشن کو اب تک شہریوں کی جانب سے 5 ای میلز اور متعدد واٹس ایپ پیغامات موصول ہوچکے ہیں جن میں کیس کی تحقیقات کے حوالے سے مختلف معلومات شیئر کی گئی ہیں۔

رجسٹرار کے مطابق ایک شہری نے میر رضا کے بائننس اکاؤنٹس سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تعاون کی پیشکش کی ہے جبکہ ایک دوسرے شخص نے مبینہ ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور آئی کلاؤڈ لاگ اِن سے متعلق معلومات کمیشن کے ساتھ شیئر کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے ایک مشکوک شخص کی بھی نشاندہی کی ہے اور کمیشن سے درخواست کی ہے کہ مذکورہ فرد کو بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل کیا جائے۔

جوڈیشل کمیشن نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات میں تعاون کرنے والے افراد کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔ شہریوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور ڈیجیٹل شواہد کو باضابطہ طور پر تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کیا جائے گا تاکہ ان کا جائزہ لیا جا سکے۔

دوسری جانب کراچی میں ہی ایک اور پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں صحافی کا موبائل فون چھیننے کے معاملے میں جوڈیشل کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا گیا ہے۔ یہ جواب مبینہ ملزم ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے ان کے والد نے جوڈیشل کمیشن میں جمع کروایا۔

Related Posts