جنسی درندے گرفتار مگر معصوم آیت نور تاحال لاپتہ! ارم فاطمہ ترک کی قیادت میں شدید احتجاج

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ہری پور میں ایک کمسن بچی کی گمشدگی نے شہریوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔ 17 دن گزرنے کے باوجود 5 سالہ آیت نور تاحال بازیاب نہیں ہوسکی جبکہ پولیس نے کیس میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ اہلخانہ اور شہریوں کا اب ایک ہی سوال ہے کہ جب مبینہ اغوا کار پولیس کی گرفت میں آچکے ہیں تو آیت نور آخر کہاں ہے؟

پولیس کی اہم پیش رفت، 5 مشتبہ ملزمان کی نشاندہی

پولیس کے مطابق جدید سائنٹیفک طریقہ تفتیش، ہیومن انٹیلی جنس، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور جیو فینسنگ کے تجزیے کے ذریعے 5 مشتبہ ملزمان کی نشاندہی کی گئی۔ کارروائی کے دوران مرکزی ملزم سمیت دو افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر مشتبہ افراد کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں۔ دوسری جانب بعض رپورٹس میں عثمان، طلحہ اور قاسم سمیت تین مرکزی ملزمان کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

مرکزی ملزم کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف

پولیس کے مطابق مرکزی ملزم عثمان نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اعترافِ جرم کیا ہے۔ گرفتار ملزم طلحہ کو کم عمر ہونے کی وجہ سے جوینائل جسٹس سسٹم کے تحت جیل بھیجا گیا جبکہ قاسم کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے تفتیش کی جارہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں آیت نور کی تلاش جاری ہے۔

17 دن بعد بھی والدین کا انتظار ختم نہ ہوا

آیت نور کے والد نے پولیس کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم ان کی سب سے بڑی خواہش اپنی بیٹی کی بحفاظت واپسی ہے۔ والدہ نے سوال اٹھایا کہ ملزمان گرفتار ہیں تو پھر ان کی بچی ابھی تک کیوں نہیں ملی؟ اہلخانہ نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ آیت نور کی بازیابی کے لیے مزید موثر اقدامات کیے جائیں۔

ہری پور میں شدید احتجاج، مکمل شٹر ڈاؤن

بچی کے اغوا اور مبینہ زیادتی کے واقعے پر ہری پور میں عوامی غم و غصہ شدت اختیار کرگیا۔ شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ جی ٹی روڈ پر رات گئے تک احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ مظاہرین کی جانب سے جی ٹی روڈ بند کیے جانے کے باعث ٹریفک معطل ہوئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

صدیق اکبر چوک میں ہونے والے احتجاج سے مقامی سیاسی رہنماؤں اور عمائدین نے خطاب کیا جن میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان بھی شامل تھے۔ مظاہرین اور سیاسی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کیس کے ابتدائی مرحلے میں پولیس کی جانب سے غفلت برتی گئی، جس کے باعث بچی کی زندگی خطرے میں پڑی۔

پولیس اہلکاروں کی معطلی کا مطالبہ

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مبینہ غفلت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو فوری معطل کیا جائے اور ڈی پی او ہری پور خود موقع پر پہنچ کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روایتی سست روی کے بجائے تمام دستیاب وسائل استعمال کرکے بچی کو فوری تلاش کیا جائے۔

احتجاج کرنے والوں نے مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمہ جلد چلانے اور قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا کا سخت نوٹس

کمسن بچی کے اغوا کا آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بھی سخت نوٹس لیا ہے اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ آیت نور کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ ڈی پی او ہری پور تحقیقات کی براہِ راست نگرانی کررہے ہیں جبکہ پولیس کی مختلف ٹیمیں بچی اور دیگر ممکنہ ملزمان کی تلاش میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل

کیس کی تفتیش کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن ہری پور کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں ایس پی سیکیورٹی ثمینہ ظفر، سٹی اور انویسٹی گیشن کے ڈی ایس پیز، آئی ٹی ماہرین، سی ٹی ڈی، ڈسٹرکٹ سیکیورٹی یونٹ اور مقامی پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔

آر پی او ہزارہ ناصر محمود ستی نے بھی ہری پور کا دورہ کرکے تفتیش کا جائزہ لیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پولیس ٹیمیں سی سی ٹی وی، گرفتار ملزمان سے حاصل معلومات اور دیگر ذرائع کی مدد سے بچی کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آئی جی کا دوٹوک موقف

آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق پولیس خواتین اور بچوں سمیت معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے اور آیت نور کیس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تفتیش مکمل کرکے انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔

ہری پور اور ہزارہ کے شہریوں کے لیے اس وقت سب سے بڑا سوال ملزمان کی گرفتاری نہیں بلکہ آیت نور کی بحفاظت بازیابی ہے۔ اہلخانہ اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک معصوم بچی اپنے والدین کے پاس واپس نہیں پہنچ جاتی۔

Related Posts