ایران کی کرنسی ریال کی قدر میں تاریخی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جہاں غیر رسمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر پہلی بار 20 لاکھ ریال سے تجاوز کر گیا۔ یہ صورتحال ایران کو درپیش سخت معاشی پابندیوں، جنگی حالات اور بے قابو مہنگائی کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پیر کو غیر رسمی کرنسی مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 20 لاکھ 2 ہزار ریال تک پہنچ گئی۔ مارکیٹ کی نگرانی کرنے والے ذرائع نے بھی ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ریال کے آس پاس بتائی ہے تاہم مختلف تجارتی پلیٹ فارمز پر شرح میں معمولی فرق موجود ہے۔
ایرانی ریال کی یہ تاریخی گراوٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن تہران کے خلاف نئی معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس مہم کو اقتصادی ڈی ڈے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کی معیشت کو سہارا دینے والے باقی مالی اور تجارتی راستے بھی بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا ایران کے تجارتی شراکت داروں اور ان اداروں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنانے کی تیاری کررہا ہے جو ایرانی معیشت کو چلانے میں مدد فراہم کررہے ہیں۔
ایرانی کرنسی کو پہلے ہی غیر معمولی مہنگائی اور 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات کے باعث شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح جولائی میں 87.9 فیصد تک پہنچ گئی جو جون میں 88.6 فیصد تھی۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس نے عام ایرانی خاندانوں کی قوتِ خرید پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








