لاہور: پنجاب بار کونسل نے صوبے بھر کے 100 سے زائد ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کیلئے وکلا کی سرکاری وردی سے مشابہ یونیفارم کا استعمال فوری طور پر بند کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کونسل کو متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں بتایا گیا کہ مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے ملازمین ایسی وردیاں پہن رہے ہیں جو وکلا اور ججوں کی سرکاری وردی سے کافی حد تک مشابہ ہیں۔
کونسل کے مطابق جو افراد بطور وکیل رجسٹرڈ نہیں ہیں، انہیں وکلا کی سرکاری وردی پہننے کی اجازت نہیں، جبکہ اس وردی کا غیر مجاز استعمال قانون کے تحت جرم بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔ نوٹس میں ہدایت کی گئی ہے کہ ایسی وردی پہننے والے ملازمین کی تفصیلات، ان کی ذمہ داریوں اور الزامات سے متعلق اپنا مؤقف ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔
پنجاب بار کونسل نے خبردار کیا ہے کہ وکلا جیسی وردی پہننے کا رجحان جاری رہا تو متعلقہ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے ساتھ ساتھ ان کے ڈائریکٹرز، مالکان، شیئر ہولڈرز اور ملازمین کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے میڈیا سے سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین عباس علی نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد وکلا کو کسی مراعات یافتہ طبقے کے طور پر پیش کرنا نہیں ہے۔ ہم ہوٹلز اور ریسٹورنٹس سے ویٹرز اور عملے کی وردیاں تبدیل کرنے کی اپیل اس لیے کررہے ہیں تاکہ عوام انہیں پیشہ ور وکیل نہ سمجھیں۔
چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہی معاملہ ججوں کی سرکاری وردی پر بھی لاگو ہوتا ہے، جس کی نقل یا غیر مجاز استعمال سے بھی گریز کیا جانا چاہیے۔ خیال رہے کہ پنجاب بار کونسل کے مطابق مرد وکلا کی سرکاری وردی میں سیاہ کوٹ، سفید قمیض، سیاہ ٹائی، سیاہ، سرمئی یا سفید پتلون، یا سفید شلوار قمیض کے ساتھ سیاہ شیروانی شامل ہے، جبکہ خواتین وکلا کی سرکاری وردی سیاہ کوٹ، سفید شلوار قمیض اور سفید دوپٹے پر مشتمل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








