خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے احاطے میں مسجد کے قریب پیش آنے والے شدید نوعیت کے دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 24 تک پہنچ گئی ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن اور خوارج کا خاتمہ
مصدقہ حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے طویل اور نپٹی ہوئی کارروائی کے دوران پولیس لائن میں چھپے ہوئے آخری دو خودکش بمباروں سمیت تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ اس پورے آپریشن میں مجموعی طور پر 7 سے 8 دہشت گردوں (خوارج) کو ہلاک کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے کمانڈوز،ایلیٹ فورس اور محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ طور پر عمارات کے تمام اہم حصوں کو کلیئر کرنے کے بعد مکمل کنٹرول حاصل کرکے علاقہ پولیس کے حوالے کر دیا۔
آپریشن کے دوران ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی قمر جواد بھی زخمی ہونے والے اہلکاروں میں شامل ہیں جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس وقت ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشیں جمع کرنے کا عمل جاری ہے۔
جاں بحق افراد اور زخمیوں کی تازہ ترین صورتحال
سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، دہشت گردی کے اس سفاکانہ حملے میں شہید ہونے والوں میں 17 پولیس جوان بھی شامل ہیں۔ سانحے میں 130 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہداء کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے جس میں اعلیٰ عسکری و سول حکام اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
دوسری جانب دھماکے کے بعد زخمیوں کو قریبی اور بڑے اسپتالوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کوہاٹ کے واقعے کے بعد 8 زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال بھی لایا گیا جہاں اس وقت زیرِ علاج زخمیوں میں 6 پولیس اہلکار اور ایک شہری شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








