خیبرپختونخوا حکومت نے ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے ایک انقلابی منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے انسانی کلون اساتذہ طلبہ کو تعلیم دیں گے۔
منصوبے کے تحت ایسے ورچوئل اساتذہ تیار کیے جائیں گے جن کے چہرے، آواز اور تدریسی انداز حقیقی اساتذہ سے مشابہ ہوں گے۔ ان AI اساتذہ کو ان اسکولوں میں استعمال کیا جائے گا جہاں روایتی اساتذہ دستیاب نہیں ہیں۔
“پڑھو خیبرپختونخوا” منصوبے کا مقصد صوبے کے نصاب کو ڈیجیٹل شکل دینا، درسی مواد موبائل فونز پر فراہم کرنا، ورچوئل کلاس رومز، مصنوعی ذہانت پر مبنی ذاتی نوعیت کی تعلیم اور ورچوئل سائنس لیبارٹریاں متعارف کرانا ہے۔
یہ منصوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں منظور کیا گیا۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے پر ایک مرتبہ تقریباً 5 ارب روپے خرچ ہوں گے، جبکہ اس کے نتیجے میں سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کی بچت متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے آئندہ دو برس کے دوران صوبے میں شرح خواندگی میں 30 سے 35 فیصد اضافے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔
منصوبے کی نمایاں خصوصیت “ہیومن کلون” اساتذہ ہیں، جو حقیقی اساتذہ کے چہرے اور آواز کی مدد سے تیار کیے گئے ورچوئل کردار ہوں گے۔ پشاور کے ایک معروف استاد کا AI کلون پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہے، جنہوں نے کیمبرج اور سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ AI اساتذہ فزکس، ریاضی، اردو سمیت مختلف مضامین میں جماعت ششم سے بارہویں تک کے 2,900 نصابی ماڈیولز پڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ طلبہ صرف ریکارڈ شدہ لیکچر نہیں دیکھیں گے بلکہ ورچوئل اساتذہ سے سوال بھی کر سکیں گے اور فوری جوابات حاصل کریں گے۔
تاہم اس منصوبے پر اساتذہ کی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں انٹرنیٹ کی محدود سہولت، اساتذہ کی خالی آسامیاں اور بنیادی سہولیات سے محروم اسکول جیسے مسائل موجود ہیں، جنہیں حل کیے بغیر AI پر مبنی نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا مشکل ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








