ٹنڈو الہ یار میں شادی کی ایک خوشی کی تقریب اس وقت غم اور خوف میں بدل گئی جب ناقص اور مضر صحت کھانا کھانے سے دلہن اور دولہا سمیت تقریباً 400 افراد کی حالت غیر ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق کھانے کے فوری بعد مہمانوں میں الٹیوں، پیٹ درد اور غنودگی کی شکایات شروع ہو گئیں جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ مریضوں کی اچانک اتنی بڑی تعداد پہنچنے پر مقامی اسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور طبی عملے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے ابتدائی طبی امداد اور بروقت علاج کے بعد زیادہ تر افراد کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
🚨🚨ٹنڈوالہ یار، ولیمے کی تقریب میں مضر صحت کھانا کھانے سے 400 سے زائد افراد متاثر ہوئے،،متاثرہ افرادکی تعداد زیادہ ہونے کے باعث اسپتال میں جگہ کم پڑ گئی،متاثرین کو اسپتال کے لان میں ڈرپس لگائی گئیں اور علاج معالجہ کیا گیا،50 افراد تاحال اسپتال میں زیر علاج pic.twitter.com/912Oh2QtVB
— Ali Tanoli (@alitanoli889) September 21, 2026
انتظامیہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ تقریب میں پیش کیے جانے والے کھانے کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تجزیے کے لیے روانہ کر دیئے گئے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کھانا زہریلا کیسے ہوا۔
واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سختی سے نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور کمشنر حیدرآباد سے اس پورے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام متاثرہ شہریوں کو فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ متعلقہ اسپتالوں میں ایمرجنسی کے نظام کو مزید فعال رکھا جائے۔ علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








