اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی کے بلوں کے ذریعے 476 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا۔ حکام نے یہ معلومات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے فراہم کیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجموعی وصولی میں 351 ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد میں جبکہ 124 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں بجلی کے بلوں کے ذریعے ٹیکس وصولی حکومتی آمدن کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے۔
انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ مالی سال 25-2024 کے دوران بجلی کے بلوں کے ذریعے 562 ارب روپے، مالی سال 24-2023 میں 515 ارب روپے جبکہ مالی سال23-2022 میں 313 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔
ایف بی آر حکام نے بجلی کے مختلف صارفین سے وصول کیے گئے انکم ٹیکس کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ ان کے مطابق صنعتی صارفین سے 66 ارب روپے، تجارتی صارفین سے 52 ارب روپے جبکہ نان فائلر گھریلو صارفین سے 4 ارب 82 کروڑ روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا۔ اس کے علاوہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی متعلقہ شقوں کے تحت گھریلو صارفین سے مزید 1 ارب 37 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس کی مجموعی وصولی میں 269 ارب روپے معمول کے سیلز ٹیکس کی مد میں حاصل ہوئے، جبکہ اضافی اور مزید ٹیکس کی مختلف مدات سے بھی رقم وصول کی گئی۔ بجلی کے بلوں پر عائد سیلز ٹیکس کے ذریعے ریٹیلرز سے تقریباً 16 ارب 50 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








