اسلامی بینک میں خواتین ملازمین کا عبایا پہننا لازمی؟ اسٹیٹ بینک سے وضاحت طلب

تازہ ترین

تازہ ترین

عبایا
(فوٹو: آن لائن)

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ دفاتر میں لباس سے متعلق پالیسیوں کی وضاحت کرے، کیونکہ ارکان نے ان رپورٹس پر اعتراض اٹھایا جن میں کہا گیا تھا کہ ایک اسلامی بینک نے خواتین ملازمین کیلئے عبایا پہننا لازمی قرار دیا ہے۔

سینیٹر زرقا سہرووردی نے کہا کہ خواتین کو عبایا پہننے کا پابند بنانے کے بجائے پاکستان کے قومی لباس شلوار قمیض کے ساتھ دوپٹہ پہننے کی آزادی ہونی چاہیے۔ سینیٹر شیری رحمان نے بھی کہا کہ کسی بھی مالیاتی ادارے کو اپنے ملازمین پر عبایا یا اسکارف لازم کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اور انہوں نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ بینکوں کیلئے اس حوالے سے واضح رہنما اصول جاری کرے۔

کمیٹی نے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے سے متعلق شکایات کا بھی جائزہ لیا، جن میں بعض ارکانِ پارلیمنٹ کے اکاؤنٹس بھی شامل تھے۔ ارکان نے ایسے معاملات کے حل میں تاخیر پر تنقید کی۔اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ مرکزی بینک قومی اسمبلی کے ارکان اور سینیٹرز کو درپیش مسائل کے حل کیلئے دو خصوصی افسران مقرر کرے گا۔

علاوہ ازیں  ارکان نے بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں پر بھی بحث کی، کیونکہ یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ صارفین پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران بجلی پر سیلز ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

Related Posts