وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اپنا پہلا کمرشل بانڈڈ آئل اسٹوریج سسٹم قائم کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ اس نظام کے تحت خلیجی اور عالمی تیل کمپنیاں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرسکیں گی جبکہ ضرورت پڑنے پر پاکستان بھی ان ذخائر کا کچھ حصہ استعمال کرسکے گا۔ یہ تجویز آج اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔
وزیر پٹرولیم کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان کو خطے میں تیل ذخیرہ کرنے اور سپلائی کرنے کا مرکز بنانے کے ساتھ ایندھن کی سکیورٹی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت کوئی باقاعدہ قومی ہنگامی تیل ذخیرہ موجود نہیں۔ قوانین کے تحت ریفائنریوں کو 5 سے 7 دن جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 20 سے 25 دن کا اسٹاک رکھنا ہوتا ہے۔
حکومت گیس کے شعبے میں بھی اصلاحات کررہی ہے، جن میں سوئی کمپنیوں کے مختلف کاروبار الگ کرنا اور گیس مارکیٹ میں مقابلہ بڑھانا شامل ہے۔ ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے کاروبار الگ کرنے پر عالمی بینک سے بات چیت ہوچکی ہے جبکہ اوگرا کو نگرانی میں مزید مضبوط کردار دینے کی تجویز ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان قطر سے ایل این جی کی مسلسل فراہمی کے لیے رابطہ برقرار رکھے گا اور اضافی گیس کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔ حکومت بجلی اور گیس کے نرخ بڑھائے بغیر سرکلر ڈیٹ کم کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ اس معاملے پر آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی جاری ہیں۔
حکومت ایل پی جی کے موجودہ کوٹہ نظام کی جگہ مسابقتی بولی کا نظام لانے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبے کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پٹرولیم سپلائی چین کو ڈیجیٹل بنانے پر بھی زور دیا جائے گا۔
وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان دو دہائیوں بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش دوبارہ شروع کررہا ہے جس میں دوست ممالک کے ساتھ ماری پیٹرولیم، پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل شامل ہیں۔
ایتھنول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری محمد وحید کے مطابق حکومت کے ساتھ پٹرول میں ایتھنول ملانے کی رضاکارانہ پالیسی پر اتفاق ہوا ہے تاہم اسے ریفائنریوں اور ایتھنول بنانے والوں کے لیے مالی طور پر قابل عمل ہونا ہوگا۔
ایل یو ایم ایس کے پروفیسر ڈاکٹر نوید ارشد نے خبردار کیا کہ طویل مدتی حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو پاکستان دوبارہ توانائی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے درآمدی تیل و گیس پر انحصار کم کرنے، توانائی کے شعبوں میں بہتر رابطے اور بیٹری اسٹوریج سمیت نئی ٹیکنالوجی پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
حبکو کے چیف ایگزیکٹو کامران کمال نے سرکلر ڈیٹ، مہنگی بجلی اور پرانے ٹرانسمیشن نظام کو بڑے مسائل قرار دیا۔ ایسوسی ایٹڈ گروپ کے محمد کاشف نے گیس اور ایل این جی میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے جبکہ زیڈ آئی سی آئل کے سلمان سلیم نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درپیش مالی مشکلات دور کرنے پر زور دیا۔ فیسکو کے عادل بشیر اور کِکس آئل کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے بھی فورم میں اپنی آرا پیش کیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








