شہریوں کی پرائیویسی کا تحفظ کرتے ہوئے انکے کالز کے ڈیٹا کے غلط استعمال کو سختی سے روکنے اور مجرمانہ کیسز کو بروقت منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے۔ نئے اور جدید طریقہ کار کے تحت اب تفتیشی افسران کو کسی طویل تقاضے کے بغیر ایک مخصوص ڈائریکٹ پورٹل کے ذریعے فوری طور پر کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) حاصل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
نئے پورٹل کا کارآمد طریقہ کار
سامنے آنے والے مراسلے کی رو سے اب متعلقہ تفتیشی افسران اس نئے پورٹل پر صرف متعلقہ کیس نمبر، مطلوبہ فون نمبر اور تفتیشی افسر کا نام درج کرکے بلاتاخیر مطلوبہ ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کو بھی بغیر وی پی این (VPN) کے براہِ راست سی ڈی آر تک رسائی فراہم کی جائے گی۔
پرانے نظام کی سست روی اور مشکلات
واضح رہے کہ موجودہ اور روایتی نظام کے تحت ملزمان کا کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) کے لاگ اِن کے ذریعے طویل کارروائی کرنا پڑتی تھی۔ اہم ترین کیسز میں بھی سی ڈی آر حاصل کرنے کا یہ سارا عمل مکمل ہونے تک شدید تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کے لیے پہلے ای میل کے ذریعے باقاعدہ درخواست دینا اور پھر منظوری ملنے کے بعد متعلقہ ٹیلی کام کمپنی سے ڈیٹا حاصل کرنا پڑتا تھا۔
وی پی این کے مسائل اور متبادل سیکیورٹی حل
جاری کردہ مراسلے میں اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ڈی پی اوز کو وی پی این پر منتقل کرنے سے مختلف نوعیت کے آپریشنل مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ڈی پی اوز کا لاگ اِن کسی مخصوص اور محفوظ ایپلی کیشن کے ذریعے سکیور بنایا جائے تاکہ کام میں رکاوٹ بھی نہ آئے اور سیکیورٹی بھی برقرار رہے۔
سیکیورٹی، آڈیٹ ایبلٹی اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری
اس حوالے سے ایک اضافی معلومات یہ بھی زیرِ بحث رہی ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ہوٹلوں کے کھلنے کے اوقات اور فیسوں کے تنازع پر ریسٹورنٹ کھلوانے کے لیے 20 ہزار رشوت لینے کی پہلی ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہے۔
اس نئے پورٹل کے ذریعے جہاں ایک طرف ہائی سیکیورٹی اور مکمل آڈیٹ ایبلٹی برقرار رکھی جائے گی، وہیں سی ڈی آر کے حصول کا پورا عمل انتہائی آسان اور تیز تر ہو جائے گا۔ ڈی پی اوز کو براہ راست کال ڈیٹا تک رسائی ملنے سے مجموعی طور پر پولیس کی فیلڈ آپریشنل کارکردگی بھی نمایاں طور پر بہتر ہوگی۔
سسٹم کی اپڈیٹ کے لیے سمری ارسال
اس جدید نظام کے نفاذ اور نئے پورٹل کے ذریعے سی ڈی آر کے حصول کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سسٹم کو اپڈیٹ کرنے کی غرض سے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی جانب سے ڈی آئی جی آئی ٹی کو باقاعدہ ایک سمری بھی ارسال کر دی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








