پشاور ہائیکورٹ میں بجلی کے بلوں میں عائد کیے جانے والے مختلف ٹیکسز کے خلاف دائر کردہ ایک اہم درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے پچھلی سماعت کا تحریری حکم نامہ بھی باقاعدہ طور پر جاری کر دیا۔
عدالت نے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے درخواست گزار کے بجلی کے بل میں کسی بھی قسم کی تفصیل بتائے بغیر ٹیکسز کی وصولی کو فی الحال معطل کر دیا ہے جبکہ اسی نوعیت سے تعلق رکھنے والی دیگر تمام درخواستوں کو آپس میں یکجا کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دیے ہیں۔
جاری کردہ عدالتی حکم نامے میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کیس کے وکیل کے مطابق درخواست گزار باقاعدگی کے ساتھ اپنے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرتا چلا آ رہا ہے تاہم اگست کے مہینے کے بجلی بل میں بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وضاحت کے متعدد غیر ضروری ٹیکس شامل کر دیے گئے تھے۔
آرڈر کے مطابق جب اس غیر معمولی اضافے کی وجہ جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو متعلقہ حکام نے درخواست گزار کو مشورہ دیا کہ وہ بل پر موجود بارکوڈ کو ڈی کوڈ کر کے دیکھ لیں۔ حیرت انگیز انکشاف اس وقت سامنے آیا جب بارکوڈ کو ڈی کوڈ کیا گیا جس سے یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ اس بل میں اضافی ٹیکس اور فردر ٹیکس وصول کیے جا رہے تھے جبکہ اس سے قبل کبھی بھی موصول ہونے والے بجلی کے بلوں میں یہ مخصوص ٹیکسز شامل نہیں کیے گئے تھے۔
عوام کے ریلیف اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، پشاور ہائیکورٹ نے اس اہم درخواست کی مزید سماعت آئندہ ماہ کی دو تاریخ یعنی 2 ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے جس میں اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








