جعلی پیر نے گلاس فیکٹری کے رہائشی کو رقم ہتھیانے کے بعد قتل کردیا

جعلی پیر نے گلاس فیکٹری کے رہائشی کو رقم ہتھیانے کے بعد قتل کردیا

راولپنڈی:گلاس فیکٹری کے رہائشی رانا شاہد کو جعلی پیر میل شاہ بخاری نے مبینہ طور پر 47 لاکھ روپے ہتھیانے کے بعد اغواء کراکر قتل کرادیا،مقتول کے لواحقین میں رانا شاہد کی بیوہ اور تین بیٹے تین بیٹیاں شامل ہیں۔

لواحقین نے ایم ایم نیوز کو اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسی سے اپنے 23 لاکھ روپے لینے تھے وہ نہیں دے رہا تھا تو میرے خاوند کو دکان پر کسی نے کہا کہ میں پیر صاحب کا مرید ہوں پیر رومیل شاہ بخاری بہت پہنچے ہوئے پیر ہیں۔

مقتول کی بیوہ نے کہاکہ اُس شخص نے کہا کہ پیر سے دعا کرواؤ گے تو آپ کے پیسے مل جائیں گے،میرے خاوند اپنے دوست کے ہمراہ جعلی پیر کے آستانے پر گئے، پیسوں کا ذکر کیا تو پیر نے ان لوگوں کو بلوایا اور ان سے پیسے لے کر خود ہی رکھ لیے۔

جعلی پیر نے کہا کہ میں تمہیں پراپرٹی کا کاروبار کراؤں گا، تم اپنی گاڑی اور زمینیں بیچ کر پیسے مجھے دو، ہم نے پیر کے کہنے پر ایسا ہی کیا اور سب کچھ بیچ کر پیر کو پیسے دے دیئے،

ہم نے تقریباً 47 لاکھ روپے اس پیر کو دیئے، کچھ عرصے کے بعد میرے خاوند نے پیسوں کی واپسی کا جعلی پیر کو کہا تو اس نے میرے خاوند کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور کہا کہ ہم تمہیں جان سے مار دیں گے اگر تم نے پیسوں کا مطالبہ کیا۔

ایک دن میرا خاوند پیسوں کی واپسی کے لئے پیر کے پاس موٹرسائیکل پر گیا اور پھر کبھی دوبارہ واپس نہیں آیا،ہم نے ہر جگہ تلاش کیا چند روز قبل میرے خاوند کی لاش تھانہ چونترہ کے قریب گندے نالے سے ملی جس میں کیڑے پڑ چکے تھے۔

میرے خاوند کی جیب سے میرا اور اُن کا خود کا شناختی کارڈ ملا،جس سے شناخت ہوئی کہ یہ میرا مقتول خاوند ہے،ہم نے پولیس میں مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دی اور ملزمان کو نامزد کیا۔

مگر پولیس نے ہماری ایک نہ سنی، ہم نے سی پی او راولپنڈی سے رابطہ کیا لیکن سی پی او نے بھی سنی ان سنی کردی،ہم کس در پر انصاف کے لیے جائیں۔

مقتول کی بیوہ کا کہنا تھا کہ جعلی پیر،اس کے بیٹے اور اس کے کارندوں سے مجھے انصاف چاہیے،خدا کے لیے میری مدد کریں میں چھ یتیموں کو کیسے پا لوں گی۔

میں اپیل کرتی ہوں آئی جی پنجاب اور وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار سے کہ ہمارے کیس کی صاف شفاف انکوائری کرائی جائے، لٹی ہوئی رقم واپس دلائی جائے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔