ڈاکٹر امجد سراج میمن کیJSMUمیں دوبارہ تعیناتی کیخلاف عدالت جانیکا امکان

ڈاکٹر امجد سراج میمن کیJSMUمیں دوبارہ تعیناتی کیخلاف عدالت جانیکا امکان

کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ایک بار پھر ڈاکٹر امجد سراج میمن کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کردیا، ڈاکٹر لبنیٰ بیگ ایک بار پھر وائس چانسلر بننے سے رہ گئی ہیں۔ سیکریٹری بورڈز و جامعات مرید راحموں نے تصدیق کی کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ڈاکٹر امجد سراج میمن کے نام کی منظوری دیدی ہے۔

یاد رہے کہ 21 مارچ کو سندھ ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ جناح نے سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کے تقرر کے سلسلے میں شارٹ لسٹڈ امیدواروں کے انٹرویوز لیے تھے جس کے بعد انہوں نے قانونی مشاورت بھی کی اور جمعرات کو ڈاکٹر امجد سراج میمن کے نام کی دوبارہ منظوری دی۔

اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ سندھ نے ڈاکٹر امجد سراج میمن کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کردیا تھا جس پر اوّل نمبر پر آنے والی ڈاکٹر لبنیٰ بیگ عدالت چلی گئیں۔پہلے تو عدالت نے ڈاکٹر امجد سراج میمن کی تقرری کا نوٹیفکیشن معطل کیا، بعدازاں 20 فروری کو وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر سراج امجد میمن کی تقرری کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ حکومت نے سنیارٹی اور قابلیت کا معیار نظر انداز کیا اور اقرباء پروری کے خدشات پر عدالت کو مطمئن نہ کر سکی۔عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ 30 یوم کے اندر شارٹ لسٹڈ امیدواروں کے دوبارہ انٹرویوز کیے جائیں۔

واضح رہے کہ تلاش کمیٹی نے سابق پی وی سی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر لبنیٰ بیگ کو 70 نمبر دے کر پہلی، ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر امجد سراج میمن کو 67 نمبر دے کر دوسری اور ڈاکٹر خواجہ مصطفیٰ قادری کو 48 نمبر دے کر تیسرے نمبر پر رکھا تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ ڈاکٹر سراج امجد میمن کے پاس اس وقت لیاری یونیورسٹی کے عہدے کا بھی چارج ہے۔لیاری یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر اختر بلوچ کو 45 روز کے لیے جبری رخصت پر بھیج رکھا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے نمبر کی امیدوار ڈاکٹر لبنی بیگ انصاری کے پاس بھی اختیار ہے کہ وہ ڈاؤ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سعید قریشی کے کیس کو مثال بنا کر دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں۔سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے دور میں ایسا ہی من پسند فیصلہ کیا گیاتھا جس میں ڈاؤ یونیورسٹی میں  دوسرے نمبر کے امیدوارنوشاد شیخ کو وائس چانسلر قائم کر دیا گیاتھا۔

ڈاکٹر نوشاد شیخ کو وائس چانسلر بنانے کے بعد ڈاکٹر سعید قریشی نے عدالت سے رجو ع کیا تھا جس میں انہوں نے گورنر سندھ عشرت العباد،سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور سیکرٹری بورڈ اینڈ یو نیورسٹیز اقبال درانی کو فریق بناتے ہوئے آئینی درخواست دی تھی جس کے بعد عدالت نے دوبارہ پراسس کرکے وائس چانسلر تعینات کرنیکا حکم دیا تھا جس کے بعد عارضی طور پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر کو ڈاؤ یونیورسٹی کا عارضی وائس چانسلر تعینات کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن عدالتی حکم تک معطل

عدالتی حکم کے بعد بھی عشرت العباد نے دوبارہ نوشاد شیخ کو وائس چانسلر تعینات کیا تھا جس کے بعد سعید قریشی نے دوبارہ عدالت میں درخواست دی کہ ایک بار پھر ان کے بجائے دوسرے نمبر کے امیدوار کو وائس چانسلر بنایا گیا ہے، جسکے بعد عدالت نے پہلے نمبر کے امیدوار ڈاکٹر نوشاد شیخ کو ڈاؤ یونیورسٹی کا امیدوار مقرر کردیا تھا،جنہوں نے اپنی مدت مکمل کی تھی اس کیس کو بطو ر مثال بناتے ہوئے عدالت جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں