بھارت نے پاکستانی ٹک ٹاکر شہزاد بھٹی پر دہشت گردی کے الزامات کیوں لگائے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارت میں پاکستانی ٹک ٹاکر شہزاد بھٹی پر دہشت گردی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مودی حکومت کے وزیر داخلہ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز نے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کے خلاف نہ صرف کارروائی کی بلکہ نیٹ ورک کے 200 سے زائد کارکنان کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ شہزاد بھٹی نیٹ ورک بھارت میں دہشت گردی اور پولیس اسٹیشن پر دھماکوں میں ملوث رہا ہے، جس کے قبضے سے دستی بم، اسلحہ اور سی سی ٹی وی کیمرے برآمد ہوئے تاہم ٹک ٹاکر شہزاد بھٹی نے بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

دوسری جانب پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی مودی حکومت کے بے سروپا الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا پراپیگنڈہ بھارت کی پاکستان مخالف مہم کا ایک اور ثبوت ہے، جس کا مقصد اپنے داخلی چیلنجز سے توجہ ہٹانا اور تنگ نظر سیاسی مفادات کا حصول ہے جس کیلئے پاکستان کو الزام دیا جاتا ہے۔

مودی حکومت کے اداروں کا ماننا ہے کہ شہزاد بھٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے مقامی افراد بھرتی کیے، ایک نیٹ ورک بنایا اور بھارتی شہروں امبالہ اور سرسا میں پولیس تنصیبات پر حملوں کیلئے لاجسٹک معلومات بھی دیں۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز رکھنے والے شہزاد بھٹی کا کہنا ہے کہ میرے خلاف جھوٹی خبریں چلائی جارہی ہیں۔

اپنی حالیہ ویڈیوز میں شہزاد بھٹی کا کہنا ہے کہ کسی اور کے بندے گرفتار کرکے میرا نام لیا جاتا ہے، اگر میرے خلاف کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں۔ مودی حکومت نے جو لوگ گرفتار کیے، وہ کاکروچ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سے کچھ تو جنتر منتر پر ہونے والے حالیہ مظاہروں میں بھی شامل تھے۔

شہزاد بھٹی نے کہا کہ اگر میں کسی ایجنسی کا بندہ ہوتا تو پاکستان سے باہر نہ رہتا بلکہ میرے اپنے ذاتی مسائل ہیں اور بھارتی گینگسٹرز کے ساتھ دشمنیاں جاری ہیں۔ بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ گرفتار افراد کے نام اور ان سے برآمد کیا گیا اسلحہ بھی منظر عام پر لائے۔

Related Posts