افغان نژاد عائشہ وہاب نے امریکی کانگریس میں تاریخ رقم کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکا میں افغان نژاد عائشہ وہاب نے خصوصی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے تاریخ رقم کردی۔

ڈسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹر کے مطابق عائشہ وہاب امریکی ایوان نمائندگان کی نشست پر کامیاب ہوگئی ہیں اور وہ کانگریس میں منتخب ہونے والی پہلی افغان نژاد خاتون بن گئی ہیں۔

یہ نشست سابق رکن کانگریس ایرک سویل ویل کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی، جنہوں نے اپریل میں جنسی بدسلوکی کے الزامات کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔

ڈیموکریٹ امیدوار عائشہ وہاب اس سے قبل کیلیفورنیا اسٹیٹ سینیٹ کی پہلی مسلمان اور پہلی افغان نژاد امریکی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ انہوں نے جون میں ہونے والے غیر جماعتی پرائمری انتخابات میں اپنی حریف میلیسا ہرنینڈز کو 25 سے زائد پوائنٹس کے فرق سے پیچھے چھوڑا تھا، تاہم عام انتخابات سے قبل ان کی مہم کے خلاف کروڑوں ڈالر کی بیرونی فنڈنگ بھی استعمال کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق عائشہ وہاب کی کامیابی کے بعد نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ اور میلیسا ہرنینڈز دوبارہ مکمل مدت کے لیے نشست حاصل کرنے کے لیے میدان میں ہوں گی۔

عائشہ وہاب کو ترقی پسند ڈیموکریٹ امیدواروں کی نئی لہر کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے صحت کی سہولیات میں توسیع، ارب پتی افراد پر زیادہ ٹیکس، امیگریشن پالیسی میں تبدیلی اور فلسطین سے متعلق اپنی پالیسیوں کا اظہار کیا۔

انہوں نے غزہ کی صورتحال کو “انسانی بحران” قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو امریکی امداد کے معاملے پر بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔ عائشہ وہاب نے کہا کہ انسانی امداد اور فوجی امداد میں فرق کیا جانا چاہیے۔

عائشہ وہاب کی کامیابی کو امریکا میں افغان، مسلم اور تارک وطن کمیونٹی کے لیے ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ امریکی کانگریس میں پہنچنے والی پہلی افغان نژاد شخصیت بن گئی ہیں۔

Related Posts