پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں خواتین کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں کیونکہ رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران شہر میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق زیادتی کے مقدمات میں 20 فیصد جبکہ اجتماعی زیادتی کے واقعات میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
زیادتی کے مقدمات 498 تک پہنچ گئے
رپورٹ کے مطابق 2025 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران لاہور میں زیادتی کے 413 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اسی عرصے میں اجتماعی زیادتی کے 26 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
تاہم رواں سال جنوری سے اگست تک زیادتی کے مقدمات کی تعداد بڑھ کر 498 ہو گئی جبکہ اجتماعی زیادتی کے رپورٹ شدہ واقعات 36 تک پہنچ گئے۔
اجتماعی زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ
اعداد و شمار کے تقابلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس اجتماعی زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتِ حال جنسی جرائم کی روک تھام اور خواتین کے تحفظ کے لیے مزید موثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
خواتین کا تحفظ، متعلقہ اداروں کے لیے اہم چیلنج
خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں اضافے کے اعداد و شمار نے تحفظ کے موجودہ انتظامات اور جرائم کی روک تھام کے اقدامات کی موثریت سے متعلق سوالات پیدا کیے ہیں۔
ماہرین اور متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ جرائم کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے، متاثرہ خواتین کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








