نیپال میں دریا بپھر گیا! چند گھنٹوں میں پانی کی سطح 2 سے ساڑھے 8 میٹر تک جا پہنچی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

نیپال کے وسطی ضلع گورکھا میں دریائے بوڑھی گنڈکی میں اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلے میں متعدد مکانات اور معلق پل بہہ گئے جبکہ پن بجلی کے ایک منصوبے کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق 95 افراد کو بچا لیا گیا ہے جن میں 9 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں جبکہ پانچ افراد تاحال لاپتا ہیں۔

نیپالی فوج کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔ لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کی مدد کے لیے چار ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام نے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔

200 سے زائد مکانات متاثر، بستیاں منقطع

نیپال کی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے 200 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ 650 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے۔ پانی کا تیز بہاؤ تقریباً ایک درجن مکانات اور متعدد معلق پل بہا لے گیا۔ پن بجلی منصوبے کی تعمیراتی مشینری بھی سیلاب کی زد میں آگئی۔

حکام کے مطابق بعض بستیاں زمینی رابطے سے مکمل طور پر کٹ گئی ہیں جہاں صرف فضائی راستے سے پہنچنا ممکن ہے۔ متاثرہ خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

چند گھنٹوں میں دریا کی سطح میں غیر معمولی اضافہ

حکام کے مطابق ایک مقام پر دریا کی سطح چند گھنٹوں کے دوران 2 میٹر سے بڑھ کر تقریباً ساڑھے 8 میٹر تک پہنچ گئی۔

مقامی رہائشی گنیش کارکی نے اخبار کھٹمنڈو پوسٹ کو بتایا کہ صبح سویرے سیلاب کی اطلاع ملنے پر وہ اور دیگر افراد گھروں سے نکل کر تقریباً 500 میٹر بلندی پر واقع جنگل میں پناہ لینے چلے گئے۔ ان کے مطابق پانی کا ریلا وقفے وقفے سے آگے بڑھتا رہا اور مقامی افراد رات کے وقت گھروں کو واپس جانے سے خوف زدہ ہیں۔

سیلاب کی وجہ تاحال معلوم نہ ہوسکی

حکام ابھی تک سیلاب کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کرسکے۔ ابتدائی امکانات کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ سے دریا یا اس کی کسی معاون ندی کا راستہ بند ہوا جس کے بعد پانی اچانک رکاوٹ توڑ کر آبادیوں کی جانب بڑھا۔ بعض مقامی افراد نے بالائی علاقے میں برفانی تودہ گرنے کی بھی اطلاع دی ہے۔

ماہرِ موسمیات بنود پاراجولی کے مطابق سیلاب میں پانی کی سطح کی نگرانی کرنے والا ہائیڈرو لوجیکل اسٹیشن بھی بہہ گیا جس کے باعث وہاں سے ڈیٹا موصول نہیں ہورہا۔

اگست کے تباہ کن سیلابوں کے بعد ایک اور آفت

نیپال ابھی اگست میں آنے والے تباہ کن سیلابوں کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا کہ تازہ آفت نے مشکلات بڑھا دیں۔ اگست کے سیلابوں میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتا ہوگئے تھے۔

امدادی ادارے سیو دی چلڈرن نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی ٹیم بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے پہاڑی علاقوں میں قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تاہم حالیہ سیلاب کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

Related Posts