بغیر وسائل ریلیف دینا معاشی بحران کا باعث بنتا ہے! وزیر پیٹرولیم نے پالیسی واضح کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے واضح کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ملکی معیشت پر ہزاروں ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے تاہم حکومت اس کڑے وقت میں بھی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

لاہور کے علاقے مغلپورہ میں اپنے حلقے کے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدہ جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں جو طوفان برپا ہے اس سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا بخوبی احساس ہے۔

حکومت نے مجبوری کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا ہے لیکن اس پورے طریقہ کار کو انتہائی شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی اس کا فوری فائدہ پاکستانی عوام کو منتقل کیا جائے گا۔

علی پرویز ملک نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بغیر وسائل کے مصنوعی ریلیف فراہم کرنے کے نتائج ماضی میں سب دیکھ چکے ہیں۔ سال 2022 میں بغیر سوچے سمجھے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے ملک کو شدید معاشی بحران اور مہنگائی کے سونامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اس لیے حکومت اب پائیدار اور حقیقت پسندانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ ہفتے وہ سعودی عرب کا دورہ کریں گے جہاں وہ سعودی قیادت کو تیل کی فراہمی اور مشکل حالات میں ساتھ دینے پر شکریہ ادا کریں گے جبکہ سرد موسم کے آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم کو پہلے ہی جامع تجاویز پیش کر دی گئی ہیں جن میں بروقت ایل پی جی کی درآمد بھی شامل ہے۔

خطے کے سکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اس نازک موڑ پر پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھی اپنی آئینی و انتظامی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش خطرات سے نبردآزما ہونے کے لیے تمام سیاسی قیادت کو عسکری اداروں کے ساتھ متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔

Related Posts