وفاقی دارالحکومت میں تین سالہ بچی سکینہ کے قتل کے الزام میں پولیس نے اس کے بہنوئی کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر بچی کی لاش جھنگی سیداں کے قریب ایک برساتی نالے سے برآمد کی گئی۔
پولیس کے مطابق سکینہ 22 ستمبر کو گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوئی تھی۔ اہلخانہ کی جانب سے تلاش میں ناکامی کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی جس پر بچی کی بازیابی کے لیے سات ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
ایس پی انڈسٹریل ایریا ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق قریبی علاقے میں موجود سی سی ٹی وی فوٹیج سے بچی ایک نوجوان کے ساتھ جاتی دکھائی دی جس کی شناخت اس کے بہنوئی کاشف کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ملزم تسلی بخش جواب نہ دے سکا اور بعد ازاں اس نے بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا اعتراف کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی نشاندہی پر واقعے کے وقت پہنے گئے کپڑے سمیت دیگر شواہد برآمد کرلیے گئے ہیں جبکہ بچی اور ملزم کے ڈی این اے سمیت دیگر نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے مزید تفتیش جاری ہے اور مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کردی گئی ہیں۔
بچی کے نانا نے سکینہ کو خاندان کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی نواسی قرار دیتے ہوئے حکام سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








