کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں پانی کی ٹینکی سے ملنے والی ڈھائی ماہ کی معصوم بچی فاطمہ کی ہلاکت کا ہولناک راز کھل گیا ہے۔ پولیس نے تفتیش کے بعد اس اندوہناک واقعے کے مرکزی ملزم کو دبوچ لیا ہے جو مقتولہ کا اپنا سگا چچا ہی نکلا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق گزشتہ روز سرجانی کے سیکٹر 7B کے ایک گھر کی چھت پر بنی پانی کی ٹینکی سے ڈھائی ماہ کی فاطمہ دختر محمد علی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔
واقعہ رات کے وقت اس وقت سامنے آیا جب اہل خانہ نے بچی کے غائب ہونے پر مددگار 15 پر کال کی۔ گھر کی تلاشی کے دوران جب چھت کی ٹینکی کا ڈھکن کھولا گیا تو اندر معصوم بچی کی لاش موجود تھی۔
گھر والوں سے پوچھ گچھ اور اعترافِ جرم
پولیس نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے بچی کے والدین اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو شاملِ تفتیش کیا۔ اس دوران جب شک کی بنیاد پر مقتولہ کے چچا محمد حماد سے سختی سے باز پرس کی گئی تو اس نے دل دہلا دینے والے اس جرم کا اعتراف کر لیا۔
قتل کی اصل وجہ
پولیس کے مطابق ملزم حماد نے خاندانی رنجش اور ذاتی تنازعات کی وجہ سے اس معصوم بچی کو موت کے گھاٹ اتارا اور بعد میں لاش چھپانے کی غرض سے اسے پانی کی ٹینکی میں پھینک دی تھی۔
اگلا قانونی لائحہ عمل
پولیس نے واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں سرجانی تھانے میں درج کرلیا ہے جبکہ گرفتار ملزم کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








