کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والے افراد میں شامل ایدھی رضاکار نے لاش کی حالت کے حوالے سے ایسی تفصیلات بیان کی ہیں جنہوں نے واقعے کی سنگینی مزید واضح کردی ہے۔
ایدھی رضاکار محسن شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ان افراد میں شامل تھے جو واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ان کے مطابق وہاں پہنچنے پر پولیس کی موبائل گاڑیاں پہلے ہی موجود تھیں۔
محسن شاہ نے بتایا کہ جھاڑیوں کی وجہ سے لاش ابتدا میں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ پولیس کی مدد سے اردگرد موجود گملے اور جھاڑیاں ہٹائی گئیں جس کے بعد لاش کو سیدھا کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اسے گولی ماری گئی تھی۔ انکے بقول لاش پر کسی کیمیکل ڈالے جانے کا بھی گمان ہورہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب لاش کی قمیض اوپر کی گئی تو جسم پر گولی کا واضح نشان موجود تھا اور وہاں سے خون بھی بہہ رہا تھا۔ محسن شاہ کے مطابق انہیں ابتدائی طور پر یہ سمجھ کر بلایا گیا تھا کہ کوئی لاوارث لاش موجود ہے، تاہم موقع پر پہنچ کر انہوں نے پولیس کو بتایا کہ شخص کو گولی لگی ہے اور اب کیا کارروائی کی جائے؟
ایدھی رضاکار نے مزید بتایا کہ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں کہا کہ اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ہیں اس لیے کچھ دیر کے لیے لاش کو وہیں رہنے دیا جائے اور وہ وہاں سے چلے جائیں۔
ایک اور رضاکار کا اہم انکشاف
واقعے کے وقت موجود ایک اور رضاکار جاوید نے بتایا کہ مقتول کا چہرہ پہلے ہی بری طرح متاثر ہوچکا تھا جس کی وجہ سے انگلیوں کے نشانات حاصل نہیں کیے جاسکے۔ ان کے مطابق چہرے کی جلد خراب تھی اور ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اسے جلا دیا گیا ہو۔
دوسری جانب مقتول کے والد میر حسین نے ڈی آئی جی ایسٹ اور فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
بیٹے کے لیے انصاف کی آواز بلند کرنے کے لیے میر حسین نے طارق روڈ سے نرسری تک احتجاجی ریلی کی قیادت بھی کی، جس میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے میر حسین نے ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لانجر کی معطلی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کی موت کے بعد سے اعلیٰ پولیس افسر نے ایک مرتبہ بھی خاندان سے رابطہ نہیں کیا۔
میر حسین نے الزام عائد کیا کہ فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں کو بھی معطل کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول پولیس نے کیس میں تاخیر کی، شواہد چھپانے کی کوشش کی اور دو روز تک اہلخانہ کے ساتھ معاملے کو الجھایا جاتا رہا۔
کیس کا پس منظر
میر رضا علی قتل کیس 29 جولائی کو لاش ملنے کے بعد سے کراچی کے ہائی پروفائل مقدمات میں شامل ہے۔ پولیس نے ابتدا میں موت کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی تھی تاہم مقتول کے اہلخانہ نے پہلے دن ہی اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے بیٹے کے قتل کا دعویٰ کیا تھا۔
پہلے پوسٹ مارٹم میں خامیوں کی نشاندہی کے بعد اہلخانہ کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔ عدالت کے حکم پر قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں معلوم ہوا کہ گولی کمر کے حصے سے داخل ہوکر سینے سے باہر نکلی تھی۔ دوسری رپورٹ میں پسلیاں ٹوٹنے اور سر پر چوٹوں کی بھی تصدیق ہوئی۔
سندھ فرانزک لیبارٹری نے مقتول کی شناخت اور خون کے نمونوں کی بھی تصدیق کردی ہے۔ اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر کے مطابق مقتول کے چہرے پر تیزاب پھینکا گیا تھا جبکہ اسے بے ہوشی کی دوا بھی دی گئی تھی۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولیس نے جائے وقوعہ پر 24 گھنٹے کے لیے عارضی چیک پوسٹ قائم کردی ہے۔ وہاں اہلکاروں کو دو شفٹوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ پہلی شفٹ صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک جبکہ دوسری رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک موجود رہتی ہے۔ اہلکاروں کو کیس مکمل ہونے تک جائے وقوعہ چھوڑنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








