سندھ کے اسکولز کا پول کھلنے کا ڈر؟ فلم گھوسٹ اسکول پر پابندی کیوں؟ ہائیکورٹ کا نوٹس

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ایک فلم جو سندھ کے تعلیمی نظام کے ایک پرانے اور سنگین مسئلے کو پردے پر اجاگر کرتی ہے خود نمائش کی اجازت کے معاملے میں قانونی مسئلے کا شکار ہوگئی۔ فلم گھوسٹ اسکول کے فلمساز نے سندھ میں فلم کی نمائش کی اجازت نہ ملنے کے خلاف ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹادیا ہے اور سینسر بورڈ کے فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے ہفتے کو درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سندھ حکومت، سندھ بورڈ آف فلم سینسرز اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔ عدالت نے تمام فریقین سے 21 اگست تک جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت بھی اسی تاریخ تک ملتوی کردی۔

فلم سازوں کی جانب سے ایڈووکیٹ معیز بیگ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ گھوسٹ اسکول کو سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز کے ساتھ ساتھ پنجاب سینسر بورڈ بھی عوامی نمائش کے لیے کلیئر کرچکا ہے تاہم سندھ بورڈ آف فلم سینسرز نے صوبے میں فلم کی نمائش کی اجازت روک دی ہے۔

وکیل کے مطابق سندھ سینسر بورڈ کی جانب سے فلم کی نمائش روکنے کی کوئی واضح وجہ بھی سامنے نہیں لائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر متعلقہ سینسر بورڈز سے منظوری ملنے کے باوجود سندھ میں فلم کو نمائش سے روکنا قابلِ سوال اقدام ہے۔

گھوسٹ اسکول کا عنوان سندھ کے تعلیمی شعبے میں موجود ایک دیرینہ مسئلے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ گھوسٹ اسکولز سے مراد ایسے سرکاری تعلیمی ادارے ہیں جو سرکاری ریکارڈ میں تو قائم دکھائی دیتے ہیں لیکن زمینی سطح پر یا تو کام نہیں کر رہے ہوتے یا مکمل طور پر غیر فعال رہتے ہیں۔

ایسے اسکولوں کے وجود میں کرپشن، اساتذہ کی غیر حاضری اور انتظامی غفلت جیسے عوامل کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق سندھ میں اب بھی ہزاروں ایسے غیر فعال اسکول اور گھوسٹ ٹیچرز موجود ہیں جن پر سرکاری وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری رپورٹس کے علاوہ عوامی اور دیگر متعلقہ حلقوں میں بھی متعدد بار زیر بحث آچکا ہے۔

فلم سازوں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فلم کا بنیادی مقصد بھی اسی مسئلے کو نمایاں کرنا ہے۔ ان کے مطابق گھوسٹ اسکول کو صرف مقامی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اس کے ہدایت کار برطانیہ میں منعقدہ ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

ایڈووکیٹ معیز بیگ نے سندھ موشن پکچرز ایکٹ 2011 کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سینسر سرٹیفکیٹ روکنے یا جاری نہ کرنے کے لیے قانون میں مخصوص بنیادیں مقرر ہیں۔ ان میں مذہب کے خلاف مواد، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والا مواد، بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کرنے والی چیزیں اور عوامی اخلاقیات کے منافی مواد شامل ہیں۔

وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ سندھ بورڈ کی جانب سے فلم کی نمائش روکنے کا فیصلہ قانون میں درج کسی بھی بنیاد پر پورا نہیں اترتا اس لیے فلم کو سندھ میں دکھانے سے روکنے کے لیے قانونی جواز موجود نہیں ہے۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ سینسر بورڈ کے فیصلے سے پہلے فلم سازوں کو کوئی شوکاز نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ وکیل نے اس عمل کو قانونی تقاضوں اور فریق کو سنے جانے کے بنیادی حق کے منافی قرار دیا۔

ابتدائی دلائل مکمل ہونے کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کیس کی مزید کارروائی 21 اگست تک ملتوی کردی جس پر آئندہ سماعت میں فریقین کے مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

Related Posts