ایران اور عراق کا کنکشن سامنے! ایف آئی اے نے ریکارڈ کھولا تو کہانی ہی بدل گئی، 2 گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن ملتان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر ایران اور پھر دیگر ممالک جانے میں مبینہ سہولت فراہم کرنے والے منظم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس سے منسلک افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔کارروائی کے دوران 2 مسافروں کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

ایف آئی اے امیگریشن ملتان نے منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے صفدر اقبال اور فیصل شہزاد کو ملک سے مبینہ غیر قانونی اخراج کے معاملے میں روک کر تفتیش شروع کی۔ حکام کے مطابق دونوں مسافر فلائٹ G-9558 کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے ملتان پہنچے تھے۔

امیگریشن کلیئرنس کے مرحلے پر ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق دونوں مسافروں کا سفری ریکارڈ متعلقہ نظام میں موجود نہیں تھا جس کے بعد حکام کو ان کے سفر سے متعلق معاملات پر شک ہوا اور مزید جانچ پڑتال شروع کی گئی۔

ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ الزام سامنے آیا کہ دونوں افراد نے تفتان بارڈر کے راستے غیر قانونی طور پر پاکستان سے سرحد عبور کی اور ایران کے ذریعے عراق پہنچے۔ حکام نے بتایا کہ ان کے پاکستان سے اخراج میں ناصر نامی ایک ٹریول ایجنٹ نے مبینہ طور پر سہولت کاری کی۔

حکام کے مطابق ناصر نے دونوں افراد کو بیرون ملک ملازمت دلوانے کا وعدہ کیا تھا اور عراق تک انکے سفر کے انتظامات بھی کیے۔ اسی سلسلے میں دونوں مسافروں کو مبینہ طور پر غیر قانونی راستے سے پاکستان سے باہر منتقل کیا گیا۔

دونوں مسافروں کے بیانات کے مطابق عراق پہنچنے کے بعد وہاں کی پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا اور دونوں تقریباً سات روز تک عراقی پولیس کی حراست میں رہے۔ ان میں سے ایک مسافر نے یہ بھی بتایا کہ اسے اس سے قبل ترکی سے ڈی پورٹ کیا جاچکا ہے۔

ایف آئی اے نے معاملے کی مزید چھان بین اور مبینہ انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے کردار کا تعین کرنے کے لیے کیس اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان کو منتقل کردیا ہے جہاں واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔

Related Posts