پاکستان کی معاشی ترقی کو نئی رفتار دینے کے لیے ملک کو روایتی صنعتی نظام سے نکل کر جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرنا ہوگی جس کے لیے چین کے کامیاب ڈیجیٹل ماڈلز سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PCJCCI) کے کمرشل ایمبیسیڈر عدیل منور نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جدت اور ڈیٹا پر مبنی صنعتی ترقی کو ملکی معیشت کی ترجیحات میں شامل کرنے پر زور دیا ہے۔
پی سی جے سی سی آئی میں ہونے والے تھنک ٹینک سیشن کے دوران عدیل منور نے کہا کہ پاکستان کے لیے اب صرف روایتی صنعتی معیشت پر انحصار کافی نہیں بلکہ اسے ٹیکنالوجی سے چلنے والے ایسے ڈیجیٹل معاشی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا جو طویل المدتی اور پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی سے برآمدات بڑھانے کے ساتھ عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقتی پوزیشن کو بھی مضبوط کیا جاسکتا ہے۔
عدیل منور نے ملک میں مربوط کمپیوٹنگ نیٹ ورک ہبز اور جدید ڈیٹا سینٹرز کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے لیے مضبوط ڈیجیٹل بنیاد ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق یہی انفراسٹرکچر مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اینالیٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بلاک چین اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ جیسی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ ٹیکنالوجیز پیداواری صلاحیت میں اضافے، صنعتی شعبے کی جدید کاری اور سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے اہم ذرائع بن چکی ہیں۔
انہوں نے چین کی ڈیجیٹل ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں مختلف اہم اور تزویراتی خطوں میں قومی کمپیوٹنگ ہبز قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں بیجنگ، تیانجن اور ہیبے کا خطہ، یانگ زے ریور ڈیلٹا، گوانگ ڈونگ، ہانگ کانگ اور مکاؤ گریٹر بے ایریا، چینگدو-چونگ چنگ، گوئی ژو اور اندرونی منگولیا شامل ہیں جہاں مربوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے کمپیوٹنگ اور ڈیٹا کی صلاحیتوں کو وسعت دی گئی ہے۔
کمرشل ایمبیسیڈر کے مطابق پاکستان بھی اپنی ضروریات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے چین کے اس ماڈل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور، کراچی، فیصل آباد، سیالکوٹ، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد، اسلام آباد اور گلگت بلتستان جیسے بڑے تجارتی و صنعتی مراکز میں مربوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قائم کیا جائے تو یہ مراکز مستقبل میں ایک جامع قومی کمپیوٹنگ نیٹ ورک کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
عدیل منور نے کہا کہ پورے ملک کو مربوط کرنے والے کمپیوٹنگ نیٹ ورک سے مختلف شعبوں کے درمیان ڈیٹا کی تیز رفتار اور بلاتعطل ترسیل ممکن ہوگی جس کے نتیجے میں صنعتی کارکردگی بہتر اور ڈیجیٹل گورننس مزید مضبوط ہوسکے گی۔ اس کے ساتھ مختلف شعبوں میں نئی ٹیکنالوجیز اور جدت کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ جدید ڈیٹا سینٹرز صنعتی آٹومیشن، مالیاتی خدمات، قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام، ٹیلی میڈیسن، ای کامرس، لاجسٹکس، تعلیم اور ڈیجیٹل مواصلات سمیت متعدد شعبوں کو مؤثر معاونت فراہم کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا دائرہ وسیع کرنے کے اثرات صرف ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے پاکستان کی بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ان کے مطابق ایک مضبوط ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد رکھنے سے پاکستان اپنی معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور عالمی سطح پر اپنی مسابقتی حیثیت بہتر بنانے کی زیادہ صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








