ویڈیوز بناتے رہے مگر جان کسی نے نہیں بچائی! ہندو انتہا پسندوں کی زیادتی کا شکار لڑکی کی خودکشی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہندوتوا شرپسندوں کی بربریت کا نشاہ بننے والی 17 سالہ دوشیزہ نے پل سے ندی میں کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا جبکہ موقع پر موجود بے حس ہجوم بچانے کے بجائے واقعے کی ویڈیو بنانے میں مصروف رہا۔

ذرائع کے مطابق کم سن لڑکی کو حکمران جماعت کے مبینہ کارندوں نے ہوس کا نشانہ بنایا تھا جسکے بعد متاثرہ خاندان نے انصاف کے لیے پولیس اور متعلقہ اداروں کے چکر کاٹے تاہم ملزمان کے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث قانون حرکت میں نہ آیا۔ مسلسل دباؤ، سنگین دھمکیوں اور نظامِ انصاف سے مایوسی کے بعد لڑکی نے انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے پل سے چھلانگ لگا دی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے مطابق لڑکی ندی میں گرنے کے بعد کافی دیر تک بقا کی جنگ لڑتی اور مدد کے لیے پکارتی رہی تاہم کنارے پر کھڑے درجنوں تماشائیوں میں سے کسی ایک کا ضمیر بھی نہ جاگا۔ انسانیت سے عاری ہجوم ڈوبتی ہوئی لڑکی کو بچانے کے بجائے اپنے موبائل فونز سے سوشل میڈیا پر لائکس اور ویوز بٹورنے کے لیے ویڈیو بنانے میں مصروف رہا۔

لرزہ خیز واقعے اور ہجوم کی بے حسی کے بعد بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے موجودہ مودی حکومت کے بیٹی بچاؤ کے دعووں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انسانی جان کی قیمت مٹی سے بھی سستی ہو چکی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مظلوموں کو تحفظ دینے کے بجائے مجرموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

Related Posts