90 منٹ تک ایران پر حملوں کی بارش، امریکا کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

تہران کے مختلف علاقوں میں تباہی کے مناظر، فائل فوٹو
تہران کے مختلف علاقوں میں تباہی کے مناظر، فائل فوٹو

 امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کی تازہ لہر مکمل کرلی گئی ہے، جس کے دوران ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق یہ کارروائیاں واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوئیں، جبکہ تہران کے وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے حملے کیے گئے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ آپریشن تقریباً 90 منٹ تک جاری رہا۔

سینٹ کام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گریٹر تنب جزیرے پر موجود ایرانی تنصیبات کو درست نشانے والے جدید ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق حملوں میں ایرانی کروز میزائلوں کے ذخائر، لانچ سائٹس اور ساحلی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی دعووں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عالمی برادری خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Related Posts