دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے کروڑوں روپے کہاں غائب ہوگئے؟ آڈٹ رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے فنڈز کے استعمال سے متعلق آڈٹ میں سنگین مالی بے ضابطگی سامنے آگئی جہاں منصوبے پر خدمات انجام نہ دینے والے افسران کو تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں 2 کروڑ 57 لاکھ 44 ہزار روپے ادا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ حکام نے اس ادائیگی کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے رقم کی واپسی اور آئندہ ایسی ادائیگیاں فوری روکنے کی سفارش کر دی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق منظور شدہ پی سی ون (PC-I) میں اسلام آباد کے لائژن آفس میں چیئرمین واپڈا کے اسٹاف آفیسرز (SOs) کے لیے کسی بھی آسامی کی منظوری موجود نہیں تھی۔ اسی طرح لاجسٹکس سیل میں صرف چیف لاجسٹک آفیسر کی ایک نشست کی اجازت دی گئی تھی، جبکہ ایڈوائزر (ایچ آر اینڈ لاجسٹکس) کے عہدے کا بھی پی سی ون میں کوئی ذکر نہیں تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی انتظامی منظوری کے پیرا 5 کے تحت منصوبے پر عملدرآمد کے دوران تمام قواعد و ضوابط اور مقررہ طریقہ کار کی سختی سے پابندی لازمی قرار دی گئی تھی۔ اسکے علاوہ واپڈا بجٹ مینوئل کے پیرا 9.3.23 کے مطابق ادارے اور اس کے مرکزی دفاتر کے اخراجات منصوبوں پر مقررہ اوورہیڈ ریٹ کے تحت ہی ڈالے جا سکتے ہیں۔

جولائی 2024 سے جون 2025 تک چیف ایگزیکٹو آفیسر/جنرل منیجر دیامر بھاشا ڈیم کنسلٹنسی اور جنرل منیجر (ایل اے اینڈ آر)، چلاس کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کے دوران معلوم ہوا کہ ڈائریکٹر (سول) کو 9 ستمبر 2021 جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر (پی آر) کو 22 ستمبر 2022 سے چیئرمین واپڈا کے اسلام آباد دفتر میں بطور اسٹاف آفیسر تعینات رکھا گیا تھا۔

اسی طرح یکم دسمبر 2020 کو دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے چیف لاجسٹک آفیسر کے طور پر تعینات ایک افسر کو 11 اکتوبر 2022 کو جنرل منیجر (ایل اے اینڈ آر/ایچ آر ڈی) واپڈا کا اضافی چارج دے کر لاہور منتقل کر دیا گیا بعدازاں 31 جنوری 2025 کو انہیں ایڈوائزر (ایچ آر اینڈ لاجسٹکس) مقرر کیا گیا حالانکہ اس عہدے کی پی سی ون میں کوئی منظوری موجود نہیں تھی جبکہ وہ چلاس کے بجائے مسلسل لاہور میں ہی خدمات انجام دیتے رہے۔

آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افسران نہ تو دیامر بھاشا ڈیم منصوبے پر تعینات تھے اور نہ ہی منصوبے سے متعلق عملی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے اسکے باوجود انہیں منصوبے کے فنڈز سے ایک کروڑ 77 لاکھ 17 ہزار روپے اور 80 لاکھ 27 ہزار روپے، یعنی مجموعی طور پر 2 کروڑ 57 لاکھ 44 ہزار روپے تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ادا کیے گئے۔

آڈٹ حکام کے مطابق ان اخراجات کو منصوبے کے کھاتے میں ڈالنے کا کوئی قانونی یا انتظامی جواز موجود نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق پی سی ون کی شرائط اور متعلقہ قواعد پر عمل نہ کیے جانے کے باعث مالی سال 2024-25 تک یہ بے ضابطہ اخراجات سامنے آئے جن کی بنیادی وجہ منصوبے سے باہر تعینات افسران کو غیر مجاز طور پر منصوبے کے ساتھ منسلک رکھنا تھی۔

آڈٹ حکام نے اس معاملے کو ستمبر 2025 میں انتظامیہ کے نوٹس میں لایا جبکہ دسمبر 2025 میں وزارت آبی وسائل کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا۔ انتظامیہ نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا کہ متعلقہ افسران کو چیئرمین واپڈا کے دفتر میں ادارے کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر تعینات کیا گیا تھا۔

تاہم آڈٹ حکام نے انتظامیہ کی وضاحت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور لاہور میں ان افسران کی تعیناتی منظور شدہ پی سی ون کی صریح خلاف ورزی تھی اس لیے منصوبے کے فنڈز سے ان کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آڈٹ اعتراض نمبر PDP-219/2025-26 پر 23 جنوری 2026 کو محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کے اجلاس میں بھی غور کیا گیا تاہم آڈٹ رپورٹ کو حتمی شکل دیے جانے تک وزارت آبی وسائل کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کی جانب سے اجلاس کے منٹس فراہم نہیں کیے گئے۔

آڈٹ حکام نے سفارش کی ہے کہ منصوبے کے فنڈز سے ان افسران کی تنخواہوں کی ادائیگی فوری طور پر بند کی جائے اور اب تک ادا کی گئی 2 کروڑ 57 لاکھ 44 ہزار روپے کی رقم واپڈا کے کوآرڈینیشن ونگ سے وصول کی جائے کیونکہ ادارے کے انتظامی اخراجات برداشت کرنا اسی ونگ کی ذمہ داری ہے۔

Related Posts