بیس برس قبل کم عمری میں گھر سے لاپتا ہونے والے نوجوان اسامہ کی اپنے خاندان تک رسائی تو ہو گئی، مگر یہ خوشی ادھوری رہ گئی کیونکہ اہلِ خانہ نے اسے واپس قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
گمشدہ افراد کو ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے سرگرم سماجی کارکن ولی اللہ معروف نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر اسامہ کی کہانی شیئر کرتے ہوئے اس کے اہلِ خانہ کی تلاش کے لیے عوام سے مدد کی اپیل کی تھی۔ اسامہ نے بتایا تھا کہ وہ 2005 میں گھر سے کسی چیز کے لیے نکلا، راستہ بھٹک گیا اور بعد ازاں لاوارث حالت میں ملنے پر اسے اسلام آباد کے ایک شیلٹر ہوم منتقل کر دیا گیا، جہاں سے اس کی زندگی کا نیا مگر تنہا سفر شروع ہوا۔
اسامہ کو صرف اتنا یاد تھا کہ اس کے والد کا نام میاں خان، والدہ کا نام یاسمین اور ایک بھائی کا نام حسیب ہے، جبکہ دھندلی یادوں کے مطابق وہ راولپنڈی کے علاقے میں رہتے تھے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس کے دو بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ ولی اللہ معروف کے مطابق اسامہ جب پہلی مرتبہ ان سے ملا تو تقریباً دس منٹ تک مسلسل روتا رہا اور اپنی تنہائی کا درد بیان کرتا رہا۔ اس وقت وہ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے اور وہیں رات گزارتا ہے، جبکہ عید، شادی یا کسی بھی خاندانی تقریب کا حصہ بننے کا اسے کبھی موقع نہیں ملا۔
ولی اللہ معروف نے بعد ازاں نئی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پوسٹ کے بعد اسامہ کے متعدد سابق پڑوسیوں نے رابطہ کیا اور بتایا کہ اسامہ کا تعلق راولپنڈی نہیں بلکہ ضلع گجرات سے ہے۔ تحقیقات کے دوران اس کے خاندان سے بھی رابطہ ہوا، جہاں والدین اور بھائی کے نام ایک جیسے نکلے۔ اسامہ کے بچپن میں ہاتھ ٹوٹنے، سر پر چوٹ لگنے اور ناک ٹوٹنے کی جو نشانیاں تھیں، وہ بھی خاندان کی معلومات سے مطابقت رکھتی تھیں، جس سے اس کی شناخت مزید مضبوط ہو گئی۔
ولی اللہ معروف کے مطابق اسامہ کے بھائی نے بتایا کہ وہ تقریباً بیس سے بائیس سال قبل لاپتا ہوا تھا۔ تاہم خاندان کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ اتنے طویل عرصے بعد وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے کیونکہ گھر کے تمام افراد اب بڑے ہو چکے ہیں اور گھر کی خواتین کے لیے وہ ایک اجنبی شخص ہوگا۔
سماجی کارکن کے مطابق انہوں نے خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ اگر ضرورت پڑی تو ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروا لیا جائے گا، اور یہ بھی تجویز دی کہ اسامہ مستقل طور پر ان کے ساتھ نہیں رہے گا بلکہ کراچی میں اپنی زندگی گزارے گا اور صرف عید یا کسی خاندانی تقریب کے موقع پر ملاقات کرے گا، مگر اس کے باوجود خاندان نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ بھائی کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔
یہ خبر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صارفین کی بڑی تعداد نے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ بیس سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہنے والے نوجوان کے لیے یہ لمحہ شاید زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ہوگا، جب برسوں بعد اپنے گھر والوں کا سراغ ملنے کے باوجود اسے اپنانے سے انکار کر دیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








