ملاقات کیجئے دنیا کے ایسے امیر ترین شخص سے جو اپنی سب سے زیادہ دولت سے کچھ خریدنے سے پہلے سیکڑوں بار سوچتا ہے۔ معروف کاروباری شخصیت اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک کا ٹریلینر ہونے کا دعویٰ کس حد تک سچا یا جھوٹا ہے، حقائق سامنے آگئے۔
تفصیلات کے مطابق اپنی ایک ویڈیو رپورٹ میں معروف بھارتی یوٹیوبر دھروو راٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک کی دولت حقیقی نقد رقم کی صورت میں موجود نہیں بلکہ زیادہ تر ان کی مختلف کمپنیوں کے حصص پر مشتمل ہے، جسے وہ “کاغذی دولت” قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایلون مسک کا سرمایہ بینک کھاتوں میں موجود رقم کے بجائے کمپنیوں کی مالیت سے وابستہ ہے اور خود ایلون مسک ماضی میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ان کی مجموعی دولت کا صرف انتہائی معمولی حصہ نقد رقم کی شکل میں ہے، جبکہ باقی مالیت حصص پر مبنی ہے۔
ویڈیو کے مطابق اگر ایلون مسک اپنی دولت کو نقد رقم میں تبدیل کرنے کیلئے اپنی کمپنیوں کے بڑے پیمانے پر حصص فروخت کرنے کی کوشش کریں تو اس سے مارکیٹ میں ان حصص کی قیمت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ سرمایہ کار ایسی فروخت کو کمپنی پر اعتماد میں کمی کی علامت سمجھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کمپنیوں کی مجموعی مالیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی ویڈیو میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ خلائی ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنی اسپیس ایکس کی موجودہ مالیت اس کی حقیقی قدر سے کہیں زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک تحقیقی ادارے کی رائے ہے کہ کمپنی کی اصل قدر عام طور پر بیان کیے جانے والے تخمینے سے خاصی کم ہے۔ ویڈیو میں کہا گیا کہ بہت سے سرمایہ کار کمپنی کی موجودہ کارکردگی سے زیادہ ایلون مسک کے مستقبل کے بڑے منصوبوں کو مدنظر رکھ کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس میں مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
ویڈیو میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ ایلون مسک کی دولت میں غیر معمولی اضافے کے پیچھے سیاسی عوامل بھی اہم کردار رکھتے ہیں۔ بھارتی یوٹیوبر نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے امریکی صدارتی انتخاب کے بعد ان کی مجموعی مالیت میں کئی گنا اضافہ ہوا اور ٹرمپ حکومت نے ایسے اقدامات اور قانونی ترامیم کیں جن سے ایلون مسک اور ان کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچا، جن میں اسپیس ایکس سے متعلق بعض ضوابط میں نرمی بھی شامل تھی۔ ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اگر آئندہ انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوتا ہے تو ایلون مسک کی مجموعی دولت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
آخر میں ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایلون مسک اپنے حصص فروخت کرنے کے بجائے انہیں بینکوں کے پاس رہن رکھ کر کم شرح منافع پر قرض حاصل کرتے ہیں، جس سے حصص فروخت کیے بغیر انہیں مطلوبہ رقم دستیاب ہو جاتی ہے۔ ویڈیو میں مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ سماجی رابطوں کے ایک معروف پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کی خریداری کے دوران بھی انہوں نے اپنے حصص کو رہن رکھ کر اربوں ڈالر کا قرض حاصل کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








