ملک کو درپیش مسائل کے حل اور قومی سلامتی کے لیے گڈ گورننس کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اگر بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کرنا پڑے تو اس پر بھی غور کرنا ہوگا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم ملک کے مسائل کے حل کے لیے گڈ گورننس بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، جبکہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے مؤثر حکمرانی اور مضبوط انتظامی نظام انتہائی ضروری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر مسائل مسلسل حل نہیں ہو رہے تو اس کا مطلب ہے کہ گڈ گورننس کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بہتر حکمرانی کے بغیر ملک کے معاملات کو درست سمت میں لے جانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً 8 کروڑ تھی جو آج بڑھ کر 25 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے، اس لیے بدلتے حالات کے مطابق نظام میں بہتری کے لیے سوچنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر انتظامی ڈھانچہ، جوابدہی اور بہتر حکمرانی وقت کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








