حکمران اتحادکے پاس آپشن کیا ہے؟

حکمران اتحادکے پاس آپشن کیا ہے؟

کیا آپ ہابسن چوائس (Hobson,s Choice)کے بارے میں جانتے ہیں۔ یہ انگریزی کا مزے کا ایکسپریشن یا حکایت ہے۔ آج کی پاکستانی سیاست سے اس کا گہرا تعلق بنتا ہے، یہ مگر بعد میں بتاؤں گا۔ جو سیاسی اتحاد آج کل ملک میں حکمران ہے، اس میں گیارہ جماعتیں شامل ہیں۔اس گیارہ رکنی اتحاد کے سامنے اب بنیادی سوال ایک ہی ہے، حکومت چھوڑ دی جائے یا جیسے تیسے ہمت کر کے مدت مکمل کریں۔

حکومت چھوڑنے کا مطلب ہے فوری انتخابات۔ تین ماہ کے اندر الیکشن کرا دئیے جائیں۔ جس کا مطلب ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے بنیادی مطالبے کے سامنے سرنڈر کر دیا جائے۔ عمران خان نے اپنے بڑے سیاسی جلسوں کے ذریعے ایک بھرپور تاثر بنایا ہے۔ایک بڑی لہر اس نے پیدا کر لی ہے اور اگر جلد انتخابات ہوئے تو وہ اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

حکومت اور اس میں شامل بعض لیڈر یہ سوچتے ہیں کہ فوری الیکشن کرانے کے بجائے اپنی مدت مکمل کی جائے۔ اسمبلی کی مدت اگلے سال جولائی اگست تک ہے، تب اسمبلی تحلیل کی جائے تو اکتوبر نومبر 2023میں الیکشن کرائے جا سکتے ہیں۔ اس وقت مئی ہے، یعنی اس حساب سے سوا سال کا عرصہ موجودہ حکمران اتحاد کو مل جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور آصف زرداری کا خیال ہے کہ اس مدت کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے۔ان کے مطابق امریکہ، آئی ایم ایف، سعودی عرب، چین، امارات، قطر وغیرہ سے امدادی پیکیج لئے جائیں تو معیشت کو سنبھال کر عوام کو ریلیف پہنچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس سب کے لئے مگر ایک سال کا عرصہ درکار ہے، تب ہی یہ سپنا عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔

زرداری صاحب اور بعض دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ الیکشن اب ہوں یا سال بعد، عمران خان نے نتائج نہیں ماننے۔ وہ صرف اپنی جیت ہی کو شفاف انتخابات قرار دے گا اور شکست پر ہر حال میں شورمچائے گا۔ ایسی صورت ہے تو پھر اب الیکشن کیوں کرائے جائیں؟ پھر مدت مکمل کرنے کے بعد ہی یہ سب ہو۔

منصوبہ برا نہیں، لیکن دو بڑی رکاوٹیں راستے میں حائل ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ دونوں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ عمران خان کا ہے جو اپنا دباؤ مسلسل بڑھا رہا ہے۔ عمران خان کو اندازہ ہے کہ اگر چند ماہ بیت گئے تو پھر ضروری نہیں کہ اس کے حق میں موجود لہر اتنی بڑی اور موثر رہے۔ اس لئے وہ جلد از جلد الیکشن چاہتا ہے۔ اسی لئے لانگ مارچ اور دھرنے وغیرہ کا اعلان ہو رہا ہے۔

دوسری رکاوٹ تیزی سے بگڑتی معیشت ہے۔ن لیگ نے جب اپنا وزیراعظم اور وزیرخزانہ لانے کے لئے ہامی بھری تو ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا کہ چیزیں اس قدر تیزی سے نیچے کی طرف پھسلتی جائیں گی اور ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔ تب ڈالر ایک سو چوراسی پچاسی روپے تک تھا۔ ن لیگ کی معاشی ٹیم کا خیال تھا کہ ہم مصنوعی طریقوں اور سرمایہ کاروں کو اعتماد دے کر روپیہ مضبوط کریں گے اور ڈالر کو ایک سو ساٹھ پینسٹھ روپے تک لے آئیں گے، پھر اس کے بعد ممکن ہوا تو ڈیڈھ سو تک لانے کی ٹرائی ہوگی۔

ابتدائی دو دنوں میں ڈالر قدرے سنبھلا، دو روپے تک بہتر ہوا، مگر پھر یوں نیچے گرا کہ حکومتی ماہرین بھونچکارہ گئے۔ ایک ڈالر دو سو روپے کا ہوچکا ہے۔ یہ وہ بات ہے جس کی دھمکی دی جاتی تھی اور جوصرف چند ماہ پہلے تک بظاہر ناممکن سی بات لگتا تھا۔ اب تو اندازے یہ ہیں کہ کہیں دو سو دس پندرہ تک نہ چلا جائے۔ پٹرول کی سب سڈی بڑی مصیبت بنی ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف اسے ختم کئے بغیر اگلے پیسے نہیں دے گا اور ختم کی تو اچانک مہنگائی کی ایسی خوفناک لہر آنی ہے کہ سب کچھ بہہ جائے گا۔

ایک اور خوفناک مصیبت لوڈشیڈنگ ہے۔ ایسی لوڈ شیڈنگ پاکستانی عوام نے پچھلے پانچ سال میں نہیں دیکھی تھی۔ اس کی وجہ جو بھی ہو، حکومت اس وقت ن لیگ اور اتحادیوں کی ہے۔ دس بارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ پر لعنت ملامت اور گالیاں انہیں ہی پڑنی ہیں۔ پٹرول اور بجلی کی قیمت بڑھائی گئی تو پھر مہنگائی کی شدت میں جو بے پناہ اضافہ ہوگا، اسے کون بھگتے گا؟

میاں نواز شریف نے چند دن پہلے شہباز شریف اور ن لیگ کے اہم رہنماؤں کو لندن بلایا اور ان سب چیزوں پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ایک فیصلہ ان ملاقاتوں میں یہ ہوا کہ اگر سبسڈی ختم کرنا ہے تو سب کو اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ ن لیگ کے اندر کچھ لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے بظاہر جس معصومیت اور ایثار کے ساتھ وزارت عظمیٰ، وزارت خزانہ، داخلہ وغیرہ ن لیگ کو دی ہے، اس کے پیچھے کہیں چال تو نہیں کہ گندا کردینے والے سب کام ن لیگ کریں اور پیپلزپارٹی والے چمکتی دمکتی وزارت خارجہ چلائیں یا ایسی وزارتیں جن کا عوام سے براہ راست تعلق نہ ہو۔

بڑے میاں صاحب کا کہنا ہے کہ یا تو فوری الیکشن پر جایا جائے یا پھر کچھ کرنا ہے تو نہ صرف پورا حکمران اتحاد بلکہ اسٹیبلشمنٹ بھی اس کا بوجھ اٹھائے۔ اسی لئے یہ سب کام کرنے سے پہلے نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں پیش کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ ویسے یہ تجویز نہایت بے تکی ہے، معاشی پلان کا نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں کیا کام۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کی ہینڈلنگ کے لئے رینجرز کو استعمال کیا جائے تاکہ اگر سخت ہاتھوں سے نمٹا جائے تو اس کی ذمہ داری بھی ہر ایک پر پڑے۔

اس وقت دونوں سمتوں میں کام شروع کیا گیا ہے۔ مدت مکمل کرنے کے اعلان کئے گئے ہیں تاکہ استقامت ظاہر ہو اور آگے جا کر کہیں مذاکرات کرنے پڑیں توبارگیننگ پوزیشن مضبوط رہے۔ دوسری طرف جلد از جلد انتخابی قوانین میں ترامیم کی کوشش ہے کہ جلدی الیکشن ہوں تو تحریک انصاف کو یہ فائدہ نہ پہنچے۔ویسے کوشش تو مقدمات ختم کرانے کی بھی زور شور سے کی گئی تھی، مگر سپریم کورٹ اس حوالے سے مزاحم ہوگئی ہے اور اب یہ آسان نہیں رہا۔

سوال اب بھی وہی ہے کہ جلدنئے الیکشن ہوں یا مدت مکمل کی جائے۔ جو بھی فیصلہ ہو، اس کی ایک قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ عمران خان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔ اس نے تو اپنا تمام تر زور لگا دینا ہے۔ کامیاب ہوگیا تو اس کے لئے بہت اچھا ہے۔ اگر ناکام ہوا تب بھی سال بعد الیکشن ہونا ہی ہے، اسمبلی کی مدت تو نہیں بڑھائی جا سکتی۔

یہ سب کچھ سوچتے اور لکھتے ہوئے میرے ذہن میں انگریزی کی ایک مشہور حکایت یا ایکسپریشن ”ہابسن چوائس Hobson,s Choice“آیا۔ کہتے ہیں کہ ہابسن نامی شخص چار پانچ سو سال پہلے کیمبرج، برطانیہ میں رہتا تھا۔ اس کے پاس گھوڑوں کا بڑا اصطبل تھا جس میں چالیس پچاس قسم کی گھوڑے موجود تھے۔ لوگ گھوڑا کرایہ پر لینے اس کے پاس آتے تو ہابسن انہیں صرف ایک ہی چوائس دیتا تھا کہ اصطبل کے دروازے کے ساتھ بندھا ہوا جو بھی گھوڑا ہے وہ لے جاؤ یا پھر گھوڑا ملے گا ہی نہیں۔ یعنی ہابسن چوائس دراصل ایک ہی آپشن ہوتی تھی، اسے قبول کیا جائے یا مسترد، اور کچھ نہیں۔ اس کی وجہ شائد یہ تھی کہ ہابسن کو خدشہ تھا کہ اگر گاہک کو گھوڑا چننے کا اختیار دیا گیا تو وہ اصطبل کا سب سے اچھا گھوڑا کھول کر لے جائے گا، یوں صرف اچھے گھوڑے ہی جائیں گے، باقی وہیں بندھے رہیں گے۔

مجھے تو لگ رہا ہے کہ ہابسنز چوائس حکمران اتحاد کے لئے یہی تھی کہ ہر حال میں ان کے ہاتھ گندے ہوں۔اب اگریہ فوری الیکشن پر چلے گئے تب بھی ان چار چھ ہفتوں کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی جو بوکھلاہٹیں سامنے آئیں اور جس طرح حکومتی معاشی ماہرین ایکسپوز ہوئے، وہ سب نے دیکھ لیا۔ جو خود کو تجربہ کار اور ماہر کہتے تھے، وقت آنے پر ان سے بھی کچھ نہیں بن پایا۔ اگریہ فوری الیکشن نہیں کراتے اور مدت مکمل کرتے ہیں تو خدشہ ہے کہ ہاتھ پر لگنے والی کالک اتنی زیادہ ہوجائے کہ پہچاننا مشکل نہ ہوجائے۔

ہمارے ہاں اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی حکومت گرنے دی اور یوں اس سے بدلہ چکا لیا۔ ایک لمحے کے لئے یہ بھی سوچ کر دیکھیں کہ پی ڈی ایم کے جو لوگ صرف چند ماہ پہلے تک اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں نکالتے اور سول سپرمیسی کے چیمپین بنتے تھے، وہ سب اتنے تھوڑے عرصے میں کیسے ایکسپوز ہوئے؟ کیسی ملامت ان کے حصے میں آئی؟ کیا یہ بھی کسی قسم کا بدلہ تو نہیں تھا؟
ایسے ہی مزا لینے کے لئے ذرا ایک بار یہ الٹا سوچ کر بھی دیکھ لیں۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں