انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ہونے والی ادائیگیوں کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر پاور ڈویژن نے خاموشی توڑتے ہوئے تمام مبینہ تاثرات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز کو غیر استعمال شدہ بجلی کے نام پر کوئی فنڈز جاری نہیں کیے جاتے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کیپسٹی چارجز یا ادائیگیاں دراصل پاور پلانٹس کو فعال اور بجلی کی پیداوار کے لیے ہمہ وقت تیار رکھنے کی مد میں دی جاتی ہیں۔ اس مالیاتی میکنزم میں پلانٹس کی بنیادی لاگت، قرضوں کی واپسی، روزمرہ کے آپریشنل اخراجات اور کمپنیوں کا طے شدہ منافع شامل ہوتا ہے۔
کیپسٹی پیمنٹس کا مالیاتی ماڈل
ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ ان ادائیگیوں کا محض 20 فیصد حصہ کمپنیوں کے پاس منافع کی صورت میں جاتا ہے۔ ملک میں لگائے جانے والے بیشتر پاور پلانٹس 80 فیصد قرض اور 20 فیصد ایکویٹی (سرمائے) کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد ملک میں توانائی کی پیداواری صلاحیت کو مستحکم کرنا اور طویل مدت میں سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
علاوہ ازیں مہنگے ایندھن پر چلنے والے پاور پلانٹس کو عام طور پر صرف اس وقت فعال کیا جاتا ہے جب قومی ضرورت عروج پر ہو۔ یہ پلانٹس دراصل گرڈ کے استحکام اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے انتہائی ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔
مالی سال 2025-26 کے اعداد و شمار
سرکاری دستاویزات سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں مجموعی طور پر 1,863 ارب روپے کی ادائیگیاں عمل میں آئیں۔ ان میں سے 944 ارب روپے قرضوں کے بقایاجات کی ادائیگی جبکہ 471 ارب روپے آپریشنل اخراجات کی مد میں خرچ کیے گئے۔
پاور ڈویژن نے یقین دہانی کروائی ہے کہ جیسے جیسے پلانٹس کے قرضے مرحلہ وار اترتے جا رہے ہیں کیپسٹی پیمنٹس کے اس بوجھ میں بتدریج اور نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








