چین میں گدھے کی کھال سے تیار ہونے والی روایتی دوا ایجیاؤ (Ejiao) کی بڑھتی طلب نے پاکستان کے لیے گدھے کے گوشت اور کھال کی برآمد کا نیا موقع پیدا کردیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق چین میں گدھوں کی تعداد کم ہونے کے باعث وہاں کے خریدار پاکستان سمیت برازیل اور آسٹریلیا سے سپلائی حاصل کررہے ہیں۔
پاکستان میں گدھوں کی تعداد 60 لاکھ سے زائد ہے جبکہ چین میں گدھے کا گوشت خوراک اور ان کی کھال سے تیار ہونے والی ایجیاؤ روایتی چینی طب میں استعمال ہوتی ہے۔ 2021 میں چین کی ایجیاؤ مارکیٹ کی مالیت تقریباً 7.8 ارب ڈالر تھی۔
پاکستان اور چین نے اکتوبر 2024 میں گدھے کے گوشت اور کھال کی برآمد کے لیے قرنطینہ سے متعلق پروٹوکول پر دستخط کیے۔ بعد ازاں گوادر میں گدھوں کی افزائش، ذبح اور پروسیسنگ کے مراکز قائم کرنے کی راہ ہموار ہوئی، جبکہ مئی 2026 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گوادر نارتھ فری زون سے گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی منظوری دی۔
جولائی 2026 میں چینی کاروباری شخصیت اینڈی لیاؤ کی کمپنی Hangeng Group نے گوادر میں گدھوں کا مذبح خانہ قائم کرکے چین کو برآمدات شروع کردیں۔ کمپنی سالانہ 2 لاکھ 16 ہزار گدھوں تک پروسیسنگ کی صلاحیت حاصل کرنے اور چند ماہ میں روزانہ ذبح کی استعداد 800 گدھوں تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کمپنی نے جانوروں کی مکمل نگرانی اور ٹریس ایبلٹی کے لیے 50 لاکھ چینی یوآن (تقریباً 7 لاکھ 40 ہزار ڈالر) کی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ اینڈی لیاؤ کے مطابق کمپنی نے گزشتہ چھ برس میں پاکستان میں تقریباً 5 کروڑ ڈالر لگائے اور اس وقت تقریباً 500 مقامی افراد سمیت 9 چینی مینیجرز ملازمت کررہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ کاروبار چھ ماہ میں تقریباً 50 لاکھ ڈالر ماہانہ زرمبادلہ کما سکتا ہے جو دو سال میں 70 لاکھ ڈالر ماہانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
جولائی 2026 میں پاکستان اور چین نے سالانہ 2 لاکھ گدھوں کے گوشت، ہڈیوں اور کھال کی برآمد کا ہدف بھی زیرِ بحث لایا۔ مالی سال 2026-27 میں تقریباً 15 ہزار ٹن گوشت، 20 ہزار ٹن ہڈیاں اور 2 لاکھ 16 ہزار ٹن کھالیں برآمد کرنے سے سالانہ 37 کروڑ 50 لاکھ سے 40 کروڑ ڈالر تک زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








