عمیری لیک اسکینڈل! خاتون کے اہلخانہ کی جان خطرے میں؟ نجی چینل کی اینکر تہمینہ شیخ نے حد پار کر دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کے میڈیا لینڈ اسکیپ میں ایک بار پھر اخلاقیات اور صحافتی اصولوں کی بحث نے زور پکڑ لیا ہے جب ایک نجی نیوز چینل نیو نیوز نے ایک وائرل ویڈیو سے جڑے سکینڈل کو اپنے پروگرام پکار میں اس طرح پیش کیا کہ نہ صرف متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ عوامی سطح پر ایک نئی تنقید کی لہر پیدا ہو گئی۔

یہ واقعہ جو عمیری لیک کے نام سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوا پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی نازیبا ویڈیو پر مبنی ہے جس میں ایک شادی شدہ عورت کائنات اور اس کا مبینہ بوائے فرینڈ عمیر عرف عمیری مباشرت کے مناظر میں نظر آ رہے ہیں۔

ویڈیو میں دونوں شراب کے نشے میں مدہوش دکھائی دے رہے ہیں اور کائنات اپنے خاندان سے گلہ کرتے ہوئے کہتی نظر آتی ہے کہ اس کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کی گئی جبکہ وہ عمیر سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس ویڈیو کی لیک ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی اور مختلف نیوز اداروں نے اسے اپنی خبروں میں جگہ دی تاہم نیو نیوز چینل نے حد سے گزرتے ہوئے کائنات کے خاندان کا انٹرویو نشر کیا جو نہ صرف ذاتی نوعیت کا تھا بلکہ توہین آمیز بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

واقعہ کی تفصیلات: ایک وائرل ویڈیو کی شروعات

یہ سب کچھ ایک 7 منٹ 11 سیکنڈ کی ویڈیو سے شروع ہوا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، فیس بک اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر تیزی سے پھیل گئی۔ ویڈیو میں کائنات، جو پنجاب کے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی شادی شدہ عورت ہے اور عمیر جو اس کا مبینہ بوائے فرینڈ ہے نہ صرف مباشرت کے مناظر میں دکھائی دے رہے ہیں بلکہ ان کی گفتگو بھی انتہائی بیہودہ اور ذاتی نوعیت کی ہے۔

کائنات ویڈیو میں کہتی نظر آتی ہے کہ میری ویڈیو بناؤ اور میری فیملی کو بھیجو جبکہ وہ اپنے والدین اور بھائیوں سے گلہ کرتی ہے کہ انہوں نے اس کی شادی ایسی جگہ کروائی جو اس کی ضروریات پوری نہیں کرتا۔ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ وہ عمیری سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ دونوں شراب کے نشے میں مدہوش نظر آتے ہیں جو اس ویڈیو کو مزید سنسنی خیز بنا دیتا ہے۔

یہ ویڈیو کیسے لیک ہوئی یہ ابھی تک ایک معمہ ہے۔ کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک ذاتی ویڈیو تھی جو کسی ہیک یا غلطی سے پھیل گئی جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ ایک انتظامی پورن کا کیس ہو سکتا ہے۔ بہرحال اس کی لیک ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر #UmairLeak جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے اور ہزاروں صارفین نے اس پر تبصرے کیے۔ کچھ نے اسے پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ کا نتیجہ قرار دیا جبکہ دیگر نے پرائیویسی کی خلاف ورزی پر زور دیا۔ نیوز اداروں نے اسے کور کیا لیکن نیو نیوز چینل نے اسے ایک قدم آگے بڑھا کر کائنات کے خاندان کو اپنے پروگرام میں بلایا۔

پکار پروگرام اور اینکر تہمینہ شیخ کا کردار

نیو نیوز چینل کے پروگرام پکار میں اینکر تہمینہ شیخ نے کائنات کے خاندان کو مدعو کیا اور ان سے ایسے سوالات کیے جو نہ صرف ذاتی تھے بلکہ توہین آمیز بھی۔ پروگرام میں خاندان کے افراد، بشمول والدین اور بھائی سے نازیبا ویڈیو کے بارے میں پوچھا گیا اور اینکر نے ان سے یہ تک پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم تھا کہ آپ کی بیٹی ایسے تعلقات میں ملوث ہے؟ اور کیا یہ ویڈیو دیکھ کر آپ کو شرم محسوس ہو رہی ہے؟۔ یہ سوالات ماں باپ کے سامنے کیے گئے جو واضح طور پر غیر مناسب تھے۔ پروگرام میں ویڈیو کے کلپس بھی دکھائے گئے جو خاندان کی عزت کو مزید مجروح کرنے کا باعث بنے۔

اینکر تہمینہ شیخ نے پروگرام کو سنسنی خیز بنانے کی کوشش کی لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پروگرام زرد صحافت کی ایک بدترین مثال بن گیا۔ صحافتی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی کہ کیا میڈیا کو ذاتی معاملات کو عوامی سطح پر لانے کا حق ہے؟ خاص طور پر جب یہ ایک نجی ویڈیو ہو جس کی لیک ہونے سے متاثرین پہلے ہی تکلیف میں ہوں۔ پروگرام نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بائیکاٹ نیو نیوز، تہمینہ شیخ شرم کرو جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔

تنقید کی لہر: سوشل میڈیا، صحافیوں اور شہریوں کا ردعمل

پروگرام نشر ہونے کے فوراً بعد تنقید کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔سوشل میڈیا صارفین نے فوری طور پر ردعمل ظاہر کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ کیا صحافت ہے؟ ذاتی معاملات پر بے ہودہ سوالات خاص طور پر ماں باپ کے سامنے۔ ٹی آر پی کے لیے عزت کا سودا؟۔ ایک اور نے کہاکہ کون سا چینل ہے اور ان سوالات کے پیچھے کس کا ایجنڈا ہے؟سب جاننا چاہتے ہیں۔ یہ تنقید صرف عام صارفین تک محدود نہیں رہی بلکہ مشہور صحافیوں نے بھی اس پر آواز اٹھائی۔

سینئر صحافی شاہد اسلم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھاکہ جو بھی اس خاتون کو اس موضوع پر بیٹھا کر انٹرویو کرتا ہے، چاہے وہ کسی بھی چینل کا ہو اسے بنیادی صحافتی اخلاقیات سیکھنی چاہیئیں یا جو انہیں ملازمت پر لائے، اسے شرم محسوس ہونی چاہیے۔ شاہد اسلم کی یہ پوسٹ ہزاروں لائکس اور ری پوسٹس حاصل کر چکی ہے جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ صحافتی برادری بھی اس پروگرام سے متفق نہیں دیگر صحافیوں جیسے حامد میر اور طلعت حسین نے بھی اسے زرد صحافت قرار دیا جو سنسنی پھیلانے پر مبنی ہے نہ کہ عوامی مفاد کی خبروں پر۔

شہریوں کی تنقید میں ایک اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا کہ میڈیا عوامی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری، اور کرپشن پر توجہ دینے کی بجائے ذاتی اسکینڈلز کو شوبز کی طرح پیش کر رہا ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ان کے پاس عوامی مسائل کی تحقیق کرنے کا وقت نہیں لیکن ذاتی معاملات کو ٹی وی پر لائیو کرتے ہیں۔ یہ صحافت نہیں، ڈرامہ ہے۔ یہ تنقید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستانی میڈیا میں ٹی آر پی (ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹس) کی دوڑ نے اخلاقیات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی

یہ واقعہ پاکستانی میڈیا کی ایک بڑی کمزوری کو اجاگر کرتا ہے جوکہ زرد صحافت پر مبنی ہے صحافت ہے جو سنسنی، جھوٹ، اور ذاتی حملوں پر مبنی ہوتی ہے اور اس کا مقصد صرف ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ پکار پروگرام میں تہمینہ شیخ کے سوالات اس کی ایک واضح مثال ہیں۔ صحافتی اخلاقیات کے اصولوں کے مطابق، میڈیا کو پرائیویسی کا احترام کرنا چاہیے، خاص طور پر جب معاملہ ایک نجی ویڈیو کا ہو۔ پاکستان پریس کونسل آف ایتھیکس (پی پی سی ای) کے کوڈ آف کنڈکٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ذاتی معاملات کو عوامی سطح پر لانے سے گریز کیا جائے، جب تک کہ یہ عوامی مفاد میں نہ ہو۔

اس معاملے میں کیا عمیری لیک عوامی مفاد کی خبر ہے؟ کچھ کا خیال ہے کہ یہ معاشرتی مسائل جیسے غیر ازدواجی تعلقات اور خاندانی دباؤ کو اجاگر کرتی ہے لیکن زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض سنسنی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے پروگرامز خواتین کی عزت کو مجروح کرتے ہیں اور معاشرے میں صنفی عدم مساوات کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں۔ کائنات ایک شادی شدہ عورت ہے، اور اس کی ویڈیو لیک ہونے سے اس کا خاندان پہلے ہی تکلیف میں ہے، ایسے میں انٹرویو نشر کرنا ایک دانستہ کوشش ہے جو انہیں پورے ملک اور دنیا میں بدنام کرتی ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا کی طاقت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ جہاں میڈیا ایک طرف ہے وہیں سوشل میڈیا نے تنقید کی لہر کو اس قدر بڑھا دیا کہ چینل کو شاید اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑے۔ یہ ایک مثبت پہلو ہے کہ اب عام شہری بھی میڈیا کی جواب طلبی کر سکتے ہیں۔

میڈیا کو اصلاح کی ضرورت

یہ عمیری لیک سکینڈل اور نیو نیوز کے پروگرام نے پاکستانی میڈیا کو ایک بار پھر آئینہ دکھا دیا ہے۔ تحمینہ شیخ پر تنقید جائز ہے کیونکہ ان کے سوالات نے صحافت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی تاہم یہ تنقید صرف ایک اینکر تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے میڈیا انڈسٹری کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ اگر میڈیا عوامی مفاد کی بجائے سنسنی پر توجہ دے گا تو اس کی ساکھ مزید کم ہو گی۔ امید ہے کہ یہ واقعہ ایک سبق بنے گا اور آئندہ ایسے پروگرامز سے گریز کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں کی تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میڈیا اپنے اخلاقی معیارات کو بلند کرے۔

Related Posts